کریمہ بلوچ کی اغوا اور قتل کینڈین حکومت پہ سوالیہ نشان ہے،حبیب الرحمٰن

0
142

پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے آزادی پسندوں میں بھی کریمہ بلوچ کے قتل کے خلاف سخت غم و غصہ پھایا جاتا ہے
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی ترجمان اور سینئر رہنما حبیب الرحمن نے کریمہ بلوچ کے قتل پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہویکہا ہے کہ کریمہ بلوچ کا قتل انسانی حقوق کی آوازوں پر شب خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد ایسے ہتھکنڈوں سے روکی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بربریت کبھی امن نہیں لا سکتی۔امن لانے کے لئے انسانوں کے انسانی و قومی حقوق تسلیم کرنا ہونگے۔ کریمہ کا قتل انسانی حقوق کی جدوجہد کے ابواب بند نہیں کر سکتا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل مومنٹ کی رہنما اور بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بی ایس او آزاد کی سابق چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کی ٹورنٹو کینڈا سے لاش ملی ہے۔ وہ کل لاپتہ ہو گئی تھی۔ مزید کوئی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ کریمہ بلوچ پاکستانی لاپتہ کئے جانے والے افراد اور بلوچستان کے حقوق کی بات کرتیں تھیں۔ اس واقعے پر بی این ایم نے چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے اپنے ایک خطاب میں کریمہ بلوچ نے کینڈین حکومت پر تنقید بھی کی تھی کہ وہ بلوچ عوام کی نسل کْشی کرنے والے پاکستانی افسران کو یہاں پناہ اور سہولیات دے رہے ہیں۔

اْنکا کہنا تھا کہ جو بھی اس وقت پاکستانی ریاست کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہے وہ بلوچ عوام کی نسل کْشی میں برابر کا شریک ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہ مل سکیں کہ اْنہیں کس طرح اغوا کیا گیا اور کب اور کہاں قتل کیا گیا اور انکے پیچھے کینیڈا میں کونسی قوتیں تھیں۔ اس بارے مں مزد تفصلات آنا باقی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں