سری لنکا: اپوزیشن کی جانب سے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش

0
29

سری لنکا کی اہم مخالف جماعت نے وزیر اعظم مہندا راجاپاکسے اور ان کی کابینہ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ’عدم اعتماد‘ کی تحریک پیش کردی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق اپوزیشن نے حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار پیدا ہونے والے سنگین معاشی بحران کے دوران قوم کو معتبر معیاری زندگی دینے سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔سری لنکا کی اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ پیپلز فورس پارٹی (یو پی ایف) نے سجیتھ پریمادسا کی سربراہی میں سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابی واردنا کے پاس ملک کے وزیر اور اس کی کابینہ کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹ کی تحریک پیش کردی ہے۔

ملک بھر میں صدر گوٹابایا راجاپاکسے اور ان کے بھائی وزیر اعظم مہندا کے استعفوں کے لیے عوامی احتجاج جاری ہیں کیوں کہ ملکی عوام معاشی بحران کا ذمہ دار صدر گوٹابایا راجاپاکسے کو قراد دیتی ہے۔ملک بھر میں احتجاجوں کے بعد مخالف جماعت نے عدم اعتماد پر ووٹ لینے کی تحریک پیش کی ہے۔

تاہم، یو پی ایف کے پاس صرف 54 ووٹ ہیں مگر انہیں امید ہے کہ وہ چھوٹی مخالف جماعتوں اور حکومتی جماعت سری لنکا پیپلز فرنٹ پارٹی کے منحرف اراکین سے بھی تحریک عدم اعتماد پر ووٹ لیں گے۔یاد رہے کہ صدر اور ان کی کابینہ کو اقتدار سے نکالنے کے لیے پارلیمنٹ میں 225 ممبران کی ضرورت ہوگی۔حکومتی جماعت کے پاس 150ووٹ ہیں لیکن ملک میں معاشی بحران کے سبب اس میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے عدم اعتماد کیلیے درکار ووٹوں کی تعداد مکمل ہونے کا امکان ہے۔

تاہم، عدم اعتماد پر ووٹنگ کے حوالے سے تاریخ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے ممبران کی ملاقات کے بعد ہونے کا امکان ہے۔یو پی ایف نے صدر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے مگر ان کو دفتر سے نکالنے کے لیے کوئی زور نہیں دیا چاہے ان کے خلاف قانون سازوں کی اکثریت ووٹ دے۔

سری لنکا نے حال ہی میں معیشت کے دیوالیہ ہونے پر غیر ملکی قرضوں پر ادائیگیوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ملک کو اس سال 7 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے ادا کرنے تھے جو اب 2026 تک ادا کیے جائیں گے اس قرضوں کی مجموعی ادائیگی 25 ارب ڈالر اداہوگی، سری لنکا کے پاس غیر ملکی ذخائر ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہیں۔

غیر ملکی کرنسی کے بحران کی وجہ سے درآمدات محدود ہیں اور اس کی وجہ سے ضروری اشیا جیسے ایندھن، کھانا پکانے کی گیس، ادویات اور خوراک کی شدید قلت ہے۔لوگ گھنٹوں لمبی لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنی چیزیں خرید سکیں اور بہت سے لوگ جس چیز کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں اس میں سے انہیں کچھ ہی اشیا حاصل ہو پاتی ہیں۔

یونائیٹڈ پیپلز فورس کی تحریک میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ رقم چھاپ رہے ہیں، پیداوار کو مکمل طور پر نامیاتی بنانے کے لیے کیمیائی کھاد پر پابندی لگا کر زرعی پیداوار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کی ویکسین بروقت آرڈر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور بعد میں انہیں زیادہ قیمتوں پر خریدتے رہے ہیں۔وسری جانب احتجاجی مظاہرین کئی روز سے صدر کے دفتر کے داخلی دروازے پرموجود ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے سری لنکا پر حکمرانی کرنے والے راجاپاکسے خاندان کے افراد سے استعفوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں