کشمیر:امشی پورہ شوپیان میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دو دہشت گرد ہلاک

0
48

کشمیر کے علاقے امشی پورہ شوپیان میں سیکورٹی فورسز کیساتھ ایک خونریز معرکہ آرائی میں 2 اسلامی شدت پسند ہلاک ہوئے۔جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک شہری بھی مارا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ انہیں امشی پورہ گاؤں میں 2اسلامی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد برف سے ڈھکے امشی پورہ کی بستی کا محاصرہ کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ44آر آر، 14بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کی جانب سے دوران شب 3بجے شدید سردی کے باوجود برف سے ڈھکے گاؤں کی ناکہ بندی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بستی کی تلاشیاں لی گئیں لیکن اسلامی شدت پسندوں کی موجودگی بستی سے الگ تھلگ چار پانچ مکانوں میں پائی گئی جس کے بعد ان مکانوں کا بھی محاصرہ کیا گیا۔پولیس نے مزید بتایا کہ دو مقامی دہشت گرد وں کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد انکے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو بلایا گیا لیکن دہشت گردوں نے سرنڈر نہیں کیا بلکہ جب تلاشی قریب 11بجے کارروائی شروع کی گئی تو انہوں نے مکان سے باہر آکر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 50 سالہ شہری شکیل احمد خان ولد عبدالرحیم خان شدید زخمی ہوا۔ زخمی شہری کو طبی امداد دینے کے دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے امشی پورہ علاقے میں جمعہ کو دو دہشت گروں اور ایک عام شہری مارا گیا۔آئی جی پی نے کہا، “گاوئں امشی پورہ، شوپیان میں (دہشت گردوں) کی موجودگی کے بارے میں پولیس کے مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر 24/25کی دیر رات مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا۔گھروں کے ایک جھرمٹ کو گھیرے میں لینے کے بعد، شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد چھپے ہوئے دہشت گرد اسلامی شدت پسندوں کا پتہ لگانے کے لیے رات گئے گھر گھر تلاشی شروع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوراندہشت گرد باہر آئے اور “اندھا دھند فائرنگ کا سہارا لیا”۔انکی اندھا دھند فائرنگ میں ایک شہری شکیل احمد شدید زخمی ہوا جو بعد میں دم توڑ بیٹھا جبکہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے موثرجوابی کارروائی کی گئی جس میں دونوں دہشت گردوں کع ہلاک کر دیا گیا جنکی شناخت مزمل احمد میر ولد عبدالحمید میر ساکن چھتری پورہ زینہ پورہ اور شارق ایوب ولد محمد ایوب وگے ساکن بونہ پورہ امشی پورہ کے طور پر ہوئی۔پولیس کے مطابق مزمل احمد8نومبر 2021 میں سرگرم ہوا تھا جبکہ شارق ایوب محض 2روز قبل23فروری سے لاپتہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مزمل کئی عسکری جرائم میں ملوث تھا۔ دونوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ اسلحے سمیت مجرمانہ مواد (ایک اے کے 56 رائفل اور ایک پستول) اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں