خواتین کے تحفظ اور صنفی برابری کے یورپی معاہدے سے ترکی دستبردارہوگیا

0
82

ترک صدر ایردوآن نے کونسل آف یورپ کے ایک اہم معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ خواتین پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کو روکنے کے قواعد و ضوابط طے کرنے کے علاوہ صنفی مساوات کا پرچار بھی کرتا ہے۔

ترک صدر کا یہ فیصلہ اس دباو کا نتیجہ ہے جس کے تحت ان کی حکومت سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ملک کے اندر خواتین پر بڑھتے تشدد کے تناظر میں استنبول کنوینشن کے تحت مناسب اقدامات کریں۔ مبصرین کے مطابق ترک صدر نے خواتین کے حقوق کے گروپوں کے مطالبات پر غور کرنے کی بجائے اس معاہدے سے ہی علیحدگی اختیار کر لی جس کا سرگرم افراد حوالہ دے رہے تھے۔

صدر رجب طیب ایردوآن کے اس فیصلے کی حمایت میں ان کی کابینہ میں شامل خاتون وزیر برائے خاندان، لیبر اور سماجی پالیسی زہرا زمرد سلجوک کا کہنا ہے کہ ملکی دستور خواتین کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے اور ملکی عدالتی نظام بھی بہت باوقار ہے جو خواتین کے لیے مقررہ ضوابط کے نفاذ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

سن 2011 میں خواتین کے حوالے سے اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی اور اسے ‘استنبول کنوینشن‘ کا نام دیا گیا۔ تاریخی ترک شہر استنبول میں یورپی کونسل کے مرتب کردہ کنویشن پر مختلف ممالک نے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت قانونی حدود کی روشنی میں ضوابط ترتیب دیے گئے تا کہ شریک ممالک کی خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے اور صنفی مساوات کے تحت انہیں دستور سازی میں شرکت، تعلیم حاصل کرنے کے مساوی حقوق اور حتی الامکان شعور و آگہی فراہم کی جا سکے۔ استنبول کنوینشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں یورپ کے پینتالیس مملک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بطور ادارہ شامل ہے۔

ترکی میں سرگرم انسانی حقوق کے ویمن گروپوں کا کہنا ہے کہ ملکی حکام اس کنوینشن میں بیان کردہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور انہیں تسلیم کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی اہلکار خواتین کے لیے تشدد سے بچاو کے حفاظتی اقدامات کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔

دوسری جانب ترک کے قدامت پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کے خاندانی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستی کی ترویج شروع ہو گئی ہے۔ انقرہ حکومت کے استنبول کمیشن سے دستربرداری کے فیصلے پر ناقدین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے ایردوآن حکومت کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں