پاکستان: پولیس نے مذہبی شدت پسندوں کیساتھ ملکر احمدی عبادت گاہ کومسمار کر دیا

0
77

صوبہ پنجاب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے قریب ایک مذہبی جماعت کی شکایت پر پولیس نے اس کے کارکنان کے ہمراہ احمدی برادری کی ایک عبادت گاہ کی چھت پر موجود مینار مسمار کر دیے ہیں۔

پولیس کی اس کارروائی میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن نوشہرہ ورکاں کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔ گوجرانولہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں ’کشیدگی ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے‘۔

تاہم جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے پولیس کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔

’پولیس کو کسی عدالت نے حکم جاری نہیں کیا تھا کہ وہ ہمارے مینار گرائے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے قانون میں احمدی برادری کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، وہ خود کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلمان نہیں کہلا سکتے، اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہیں یا اذان دیں تو ایسے شخص کو تین برس قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رواں سال 25 جنوری کو نوشہرہ ورکاں کے ایک قریبی گاوں گرمولا ورکاں کے شہری سجاد احمد ورک نے ڈپٹی کمشنر گوجرانولہ کو درخواست دی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے علاقے میں احمدی برداری نے ایک سکول کھول رکھا ہے جہاں ’وہ سرعام اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے‘ ہیں۔

انھوں نے درخواست میں الزام لگایا کہ یہاں ایک عبادت گاہ بھی موجود ہے جسے پاکستان کے قوانین کے خلاف مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قبرستان کی ایک زمین پر تنازع سے متعلق درخواست میں الزام لگایا گیا کہ ’مسلمانوں کی ملکیت اراضی پر قبضہ کیا گیا ہے۔

تاہم احمدی برداری ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے یہ درخواست پولیس کے حوالے کی اور ڈی ایس پی نوشہرہ ورکاں خالد اسلم کے مطابق انھوں نے دونوں فریقین کو اپنے دفتر طلب کیا تھا اور دونوں کا موقف سنا تھا۔

17 مارچ کو ڈی ایس پی کے مطابق پولیس نے ’سکول کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے‘ کی بنا پر اس سکول کو بند کیا اور ساتھ ہی ساتھ عبادت گاہ کے مینار توڑ دیے اور عبادت گاہ کے سامنے لکھے کلمے کو مٹا دیا۔ اس عمل میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ بلدیہ کے ملازمین اور اس مذہبی گروہ کے کارکن شامل تھے۔

جماعت احمدیہ کے اراکین سنہ انیس سو چوہتر سے پہلے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ گردانے جاتے تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے انھیں غیر مسلم قرار دے دیا تھا

ڈی ایس پی خالد اسلم کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق احمدی برادری کی عبادت گاہ مسلمانوں کی مسجد سے مشابہہ نہیں ہونی چاہیے، اس لیے تھانہ نوشہرہ ورکاں پولیس کے اہلکاروں اور بلدیہ کے ملازمین کی مدد سے اس عبادت گاہ کی چھت پر مینار مسمار کردیے گئے اور عبادت گاہ کے سامنے لکھے کلمہ طیبہ کو بھی مٹا دیا گیا ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان عامر محمود نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سکول کی رجسٹریشن کا معاملہ محکمہ تعلیم میں چل رہا ہے اور کسی مسئلے کی صورت میں محکمہ تعلیم ہی اس پر کارروائی کرنے کا مجاز ارادہ تھا۔

’پولیس کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ سکولوں کی رجسٹریشن چیک کرے اور انھیں بند کرے۔‘

ان کا موقف ہے کہ پولیس نے تمام اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سرکاری انتظامیہ شرپسند عناصر کے غیر قانونی مطالبات تسلیم کرلیتی ہے اور ان کی خوشنودی کے مطابق کام کیا جاتا ہے۔‘

جماعت احمدیہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے سے وفاقی اور صوبائی حکومت کو آگاہ کریں گے۔

ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ فریقین کے مابین اراضی کی ملکیت کا کیس سول جج مسعود زمان گوندل کی عدالت میں زیر سماعت ہے جس کی آئندہ تاریخ سماعت 20 مارچ مقرر ہے۔ دونوں فریقین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلہ آنے تک کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔

پولیس کا موقف ہے کہ اگر سکول بند نہ کروایا جاتا اور اس عبادت گاہ کے مینار گرا کر وہاں سے کلمہ نہ مٹایا جاتا تو علاقے میں ’کشیدگی بڑھنے کا خدشہ تھا۔‘

علاقے میں احمدی برداری سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ خود نقص امن نہیں چاہتے، اسی وجہ سے انھوں نے مخالف فریق کے تمام مطالبات کسی مزاحمت کے بغیر تسلیم کرلیے ہیں۔

گرمولا ورکاں اور اس سے ملحقہ کچھ دیہاتوں میں احمدی برادری کے سینکڑوں گھرانے آباد ہیں اور دیہی علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کاشتکاری سے وابستہ ہے۔ اس برادری کے کچھ افراد زمیندار ہیں۔

پاکستان میں اس نوعیت کے واقعات اس سے قبل بھی پیش آچکے ہیں جن میں احمدی برادری کے افراد یا عبادت گاہوں کو توہین مذہب یا قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں نقصان پہنچایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین سنہ انیس سو چوہتر سے پہلے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ گردانے جاتے تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے انھیں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ سنہ انیس سو چوراسی میں صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں ان کے خلاف ایک آرڈیننس جاری ہوا تھا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو اٹھانوے سی اور دو سو اٹھانوے بی کے تحت اب جماعت احمدیہ کا کوئی رکن خود کو مسلمان ظاہر کرے، اپنی عبادت گاہوں کے لیے کوئی اسلامی اصطلاح استعمال کرے، اسلام وعلیکم کہے یا بسم اللہ پڑھ لے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے یا اذان دے تو اسے تین برس قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جماعت احمدیہ کے اراکین اس قانون کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں