گوادر میں پانی کا بحران پورٹ اور سی پیک کے تناظر میں

0
300


نیوز انٹرونشن رپورٹ

نیوز انٹرونشن ویڈیورپورٹ یہ رپورٹ ہماری انگلش ویب سائیٹ میں شائع ہو چکی ہے،نیوز انٹرونشن کے اُردو قارعین کے لیے اسے شائع کیا جا رہاہے

چائنا اور پاکستان کی سی پیک کی مرکز ”گوادر“ زندگی کی بنیادی سہولیات سے یکسرمحروم ایک ساحلی علاقہ ہے۔ جہاں نہ پینے کیلئے پانی ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولت میسر ہے۔
سی پیک کے باسی گوادر کے عوا م زندگی کی بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہیں اوروہ ترقی و سی پیک کی خوشحالی نہیں بلکہ پانی وبجلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گوادر میں پانی کا مسئلہ آج سے نہیں بلکہ 33 سال پراناہے۔جب گوادر کے علاقے جیوانی میں پانی مانگنے پر یاسمین نام کی ایک معصوم بچی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔اور تب سے لیکر آج تک پاکستانی حکمرانوں نے گوادر کے شہریوں کو کربلا جیسے صورتحال سہنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔
جب پاکستان کی مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے گوادر میں میگا پروجیکٹس کے نام پر گوادرپورٹ اور سی پیک جیسے پروجیکٹس کی بنیا دیں رکھیں توعوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ اب نہ صرف اس ماہیگیربستی کی بلکہ پورے بلوچستان قسمت بدلنے والی ہے۔اور گوادر دبئی و سنگاپور طرز کا ایک علاقہ بن جائے گا،اوریہاں کے عوام ایک خوش حال زندگی بسر کریں گے۔
عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ گوادر پورٹ سے روز گار کے نئے ذرائع پیدا ہونگے۔ضلع گوادرکے نوجوانوں کو مستقبل میں سی پورٹ کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کیلئے تعلیمی و فنی تربیت دی جائے گی۔اور پورٹ میں پہلی ترجیح گوادر کے نوجوانوں کی دے جائے گی۔ علاقے میں کالج و یونیورسٹیاں بنائی جائینگی۔ 24گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی، ڈیم بنائے جائیں گے اور عوام کو وافر مقدار میں روزانہ صاف پانی دی جائے گی۔ بڑی بڑی مارکیٹیں اور بزنس سینٹر قائم ہوں گے، بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی۔بڑے بڑے فائیواسٹارز ہوٹلز کھلیں گے۔
لیکن پاکستانی اشرافیہ اپنی تمام تروعدوں سے مکھر گئی۔کیونکہ انہیں بلوچستان کی زمین اوروسائل چاہیے۔انہیں بلوچ عوام سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کس حال میں رہیں۔وہ مریں یا جیئیں۔
گوادردر اصل مقبوضہ بلوچستان کا ایک ساحلی علاقہ ہے۔جو ایک ضلع پر مشتمل ہے اور اس ضلع میں تین اور تحصیل ہیں جو وہ بھی ساحلی علاقے ہیں۔جن میں پسنی، جیونی اور اورماڑہ شامل ہیں


اس ماہیگیر بستی کی ایک قدیم تاریخ ہے۔کہاجاتا ہے ہیں کہ 1780ء کے ابتدائی عشرے میں مسقط عمان کے سلطان نے اپنے چھوٹے بھائی ابوسعید کو ملک بدر کیا تو وہبلوچستان کے سربراہ خان آف قلات میر نصیر خان نوری کے پاس پہنچااور عسکری مددطلب کی۔لیکن نصیر خان نوری نے کسی عسکری امداد کی بجائے ابوسعید کو گوادر بندرگاہ کی آمدنی اس شرط پر عطا کی کہ جب تک وہ بلوچستان میں ہے اسی سے گزارہ کر لے۔اورا بوسعید نے چند سال بعد اپنے بھائی کا تختہ الٹ دیا اورسلطنت عمان کے باد شاہ بن گئے۔
کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر 1958 تک گوادر سلطنت اومان و مسقط کی عملداری میں ہی تھا۔اور کہتے کہ ہیں 8 ستمبر 1958 کو پاکستان نے گوادر کو 10 ملین ڈالر کے عوض سلطنت اومان و مسقط سے خرید لیا۔ اور یہ بات کتنی حد تک سچ ہے پتہ نہیں لیکن 1977میں گوادر کو بلوچستان کے ضلع کی حیثیت دے دی گئی۔
گوادر کے زیادہ لوگوں کے پاس عمان کی نیشنلٹی ہے۔
بلوچستان کی ساحلی پٹی 778 کلومیٹر طویل ہے جو پاکستان کے ساحل کا 80 فیصد حصہ بنتا ہے۔ یہ پٹی مشرق کی جانب حب سے شروع

hammarhead

ہوتی ہے اور مغرب میں ایران کی سرحد تک جاتی ہے۔ اس پٹی پرگوادر، پسنی، جیونی،پشکان،گڈانی، کلمت، اورماڑہ، بسول، سربندر، کھپر، ڈامب، وندر واقع ہیں۔ اس پٹی پر ماہی گیروں کی کم ازکم 40سے اوپر بستیاں آباد ہیں جو زیادہ تر ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔ اس پٹی میں گوادر اپنی بندرگاہ کی وجہ سے بہت اہمیت اختیار کر گیا ہیمگر گوادر کی اپنی صورت حال مگر انتہائی مخدوش ہے۔
حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہاں 300 میگا واٹ کا ایک کول پاور پلاٹ زیر تعمیر ہے جو گوادر اور بلوچستان کی بجلی کی ضرویات کو پورا کرے گا۔لیکن حقیقتاً ایسا بالکل نہیں ہے۔ ایسے پروجیکٹس بس سرکاری فائلوں اور میڈیاکے پروپگنڈے کا حصہ ہیں۔
گوادر پورٹ اتنااہم کیوں ہے۔؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گوادر قدرتی طور گہرے پانی

(Deep Sea)

کی بندرگاہ ہے۔ عام طور پر بندرگاہوں کو سمندر میں نیچے گہرا کرنے کے لئے کھدائی کی جاتی ہے مگر گوادر ان چند بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو گہرے پانی میں واقع ہے۔ قریب کی دوسری بندرگاہوں سے اگر مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو ان کی سمندر میں گہرائی عموماَ نو یا دس میٹر ہوتی ہے۔ ان میں کراچی (9/10)، ایران کی چاہ بہارپورٹ (11)ایران کی بندرعباس پورٹ(9/10)،دبئی کی جبل علی (15/16)، اومان کی (10)، دمام (9)، دوحہ (11/12) گہرے ہیں جبکہ گوادر (17/18) گہری ہے۔ بندرگاہوں میں دوسری بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے لئے سمندر میں ہتھوڑے کے سرے

(Hammerhead)

جیسی جگہ مصنوعی طریقے سے بنانی پڑتی ہے تاکہ سمندری پانی کا کٹاؤ روکا جا سکے جبکہ گوادر میں یہ ہیمر ہیڈ بھی قدرتی طور پر بنا ہوا ہے۔
اس ساحلی علاقے کی ایک بڑی بندرگاہ بننے کی قدرتی صلاحیت اس سے پہلے ہی سامنے آ چکی تھی جب 1954 میں امریکی جیالوجیکل سروے نے گوادر کو ڈیپ سی پورٹ کے لیے بہترین مقام قرار دیا تھا۔
گوادر کی تیسری بڑی خصوصیت اس کا تزویراتی محل وقوع

(Geostrategic Location)

ہے۔ گوادر خلیج اومان اور خلیج فارس کی تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے۔ اس زون میں اومان، مسقط، دوبئی، عجمان، قطر، بحرین، سعودی،کویت، عراق اور ایران کی کم و بیش ساٹھ بندرگاہیں ہیں جن میں چاہ بہار، بندر عباس، اومان، دوبئی، جبل علی،پورٹ خلیفہ، شاہ عبداللہ، دمام، ودحہ، شویک اور ام قصر وغیرہ شامل ہیں۔ چین اور مشرقی ایشیا سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے گوادر ان تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے۔
چین 2001 سے ایک معاشی پالیسی (Go West) پر کاربند ہے۔ چین کے مغربی صوبے شانچی (Shaanxi)، اورمچی (Urumqi)، قورغاس (Khorgas)، سینکیانک (xinjiang) ایک تو معاشی لحاظ سے بہت پسماندہ تھے، دوسرے شدت پسندی نے بھی جنم لینا شروع کر دیا تھا اور تیسرے یہ چین کو سینٹرل ایشیا سے ملانے کا راستہ تھا۔ چین نے اپنے مغربی حصے میں 2001 سے تقریباَ 320 بیلین ڈالر کے میگا پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔، سینکیانک ہی سے چین گوادر تک آئے گا۔ چونکہ سی پیک کی بنیادی اکائی گوادر بندرگاہ ہے اس لئے چین کے لئے یہ ایک (Game Changer) کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین تائیوان کے قریب اپنے جنوب مشرقی ساحلوں سے اگر مسقط تک، ملاکا سے ہوتے آتا ہے تو اسے 4600 ناٹیکل میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ جبکہ گوادر سے یہ فاصلہ 208 ناٹیکل میل بنتا ہے۔
ادھر چین کو کاشغر سے گوادر تک 2700 سے 3000 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ اسی راستے کا نام سی پیک ہے۔ مگر سی پیک صرف راستہ نہیں ہے۔ یہ ہائی ویز، موٹرویز، ریل، تیل اور گیس کے پائپ لائنوں کا ایک جال ہے۔ یہ سب کچھ گوادر پورٹ کے گرد گھوم رہا ہے۔ سی پیک 45.69 بلین ڈالر کا منصوبہ تھا۔ جس میں حال ہی میں 5.5 بیلین ڈالر کا مزید اضافہ ہوا ہے۔


گوادر پورٹ یا گوادرکو چین نہ صرف معاشی و اقتصادی پالیسی کے طور استعامل کرنا چاہتا ہے بلکہ سی پیک کی تعمیر چین کی عسکری پالیسی کابھی حصہ ہے۔اس حوالے سے بلوچ آزادی پسند لیڈرڈاکٹر اللہ نذر بلوچ بھی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ چینیآرمی باقاعدہ طور پر گوادر پورٹ میں موجود ہے۔
جب اس بارے میں ہم نے معلومات اکھٹے کئے تو پتہ چلا کہ بالکل چین کی آرمی گوادر پورٹ میں موجود ہے اور گوادر پورٹ کو بہت حساس قرار دیکر گوادر کے عوام پورٹ کی احاطے میں جانے کی بالکل اجازت نہیں ہے جبکہ پورٹ کے بلوچ ملازمین کیلئے بھی ایک مخصوص ایریا متعین کیا گیا ہے کہ وہ پورٹ کے دوسرے علاقے میں نہیں جا سکیں گے اور ان کا شناختی و سیکورٹی عمل اس قدر سخت بنایا گیاہے کہ جبکہ دوسرے پنجابی اور چینی ملازمیں کو کسی قسم کی کوئی بندش نہیں ہے۔
تو اس عمل سے یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ چین کی آرمی گوادر پورٹ میں موجود ہے ورنہ آخرکار اتنی سیکورٹی کی وجہ کیا ہے؟ ۔بلوچ دفاعی و عسکری ماہرین کہتے ہیں چین کی بلوچستان میں گوادر پورٹ میں موجودگی انڈیا کی نگرانی ہے۔


نیوزانٹر وینشن کی جانکاری کے مطابق سی پیک کی تعمیر کیلئے اس روٹ پر واقع ضلع اور اور ضلع کیچ کے متعدد چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کے آبادیوں کو پاکستانی فوج نے طاقت کا استعمال کرکے نقل مقانی پر مجبور کیا ہے۔فورسز نے لوگوں کی مال موویشیاں چرائی،خواتین کی عزت و حملہ کیا،لوگوں کو بلاجواز گرفتار کرکے لاپتہ کیا،گھروں میں لوٹ مار، کئی گھروں کو جلادیا تاکہ لوگ بے زار ہوکر علاقہ چھوڑ دیں اور بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ کہا جارہا کہ سی پیک روٹ پر واقع دیہاتوں کے لوگ نقل مکانی کرکے گوادر شہر، تربت شہر، حب چوکی،کراچی پسنی آباد ہوگئے۔
دنیا اور پاکستان واسیوں کی نظر میں گوادر دبئی و سنگاپور طرز کا ایک ترقی یافتہ شہر ہے لیکن حقیقت اس کے باکل بر عکس ہے۔ یہاں نہ لوگوں کو پینے کیلئے پانی میسر ہے اور نہ ہی بجلی۔موسم گرما میں گرمی کی وجہ سے لوگوں کی حالت اس لئے غیر ہوجاتی ہے کہ بجلی سہولت اس علاقے میں موجود نہیں ہے۔


ضلع گوادر اور ضلع کیچ کی بجلی ایران سے آتی ہے جو پاکستانی اشرافیہ نے ایک معاہدے کی طور پر اس کی سہولت حاصل کی ہے لیکن 24گھنٹے کی بجلی محض تین یا چار گھنٹے فراہم کی جاتی ہے۔ دم بھر لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ چلتا ہے جس کی وجہ سے محکمہ واٹر سپلائی بھی پانی سپلائی نہیں کرسکتااور شہر کے لوگ ایک ایک بوند پانی کیلئے ترستے ہیں۔
جبکہ پاکستان آرمی، پاکستان نیوی، کوسٹ گارڈ،انٹیلی جنس اداروں کے کیمپس اورکالونی سمیت گوادر پورٹ اتھارٹی کے کالونیزمیں 24گھنٹے کی بجلی اور صاف پانی دستیاب ہے۔
گوادر کے عوام پانی و بجلی کی عدم دستیابی پر گذشتہ کئی سالوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ اورجب گرمیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو اس میں شدت آجاتی ہے۔ سرکاراس مسئلے کو کھبی سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے۔ٹینکڑوں کے ذریعے ٹھیکیداری سسٹم میں عوام کو پانی کی سپلائی کی آڑ میں بہت پیسے بٹورا جاتا ہے۔اور اس سب کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
گوادر کے عوام پانی اور بجلی سے تو محروم ہیں لیکن گوادر پورٹ کی تعمیر بعد یہاں کے غریب ماہیگیروں کوپاکستان نیوی، اور کوسٹ گارڈسمندرمیں شکار کیلئے بھی جانے نہیں دیتی۔سیکورٹی خدشات کے نام پر ایک بڑے ایریا کو پاکستانی فوج نے اپنے انڈر لیا ہوا ہے جہاں چھوٹے چھوٹے ماہیگیر کو بس ساحل سے کچھ فاصلے پر شکار کیلئے جاتے تھے اب انہیں شکار کیلئے جانے کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ایک وقت کی روٹی کیلئے محتاج ہوگئے ہیں۔
ماہیگیر کہتے ہیں کہ جب وہ صبح کے 4یا5بجے سمندر میں مچھلی کی شکار کیلئے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو سیکورٹی فورسز انہیں گرفتار کرکے ان سے شناختی کارڈ مانگتے ہیں جوایک بالکل غلط مطالبہ ہے کیونکہ ہم شکار کیلئے جانے کیلئے ایسے لباس پہنتے ہیں جن میں پاکٹ نہیں ہوتا ہے اگرہم شناختی کارڈ لیکر جائیں تویہ امکان بہت کم ہوگا کہ واپسی پر شناختی کارڈ صحیح سلامت ہوگا۔
گوادر عوام کے پانی کے مطالبے پر آل سیاسی پارٹیز بھی سراپا احتجاجہے اور حکومت سے عوام کیلئے پانی کی دو بوند اور18 گھنٹے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دنیا کی قیمتی خزانے سے مالا مال سرزمین کے مالک اور دنیا کے نظر میں سی پیک کے باسی جون جولائی کے اس شدید اور جھلسہ دینے والی گرمیوں میں گوادر کی شاہراہوں اور گلیوں میں احتجاج کر رہے ہیں کہ میگا پروجیکٹس،گوادر پورٹ ورسی پیک نہیں چاہیے ہمیں بس دو بوند پانی اور بجلی دیدو۔
شاید سی پیک پاکستان اور چین کی قسمت بدل دے لیکن بلوچستان خاص کر گوادر کا عوام بھوک پیاس سے مرے گا۔ ٭٭٭

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں