انکوائری کمیشن کا وی بی ایم پی کے کیمپ کا دورہ۔ بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں پر بحث تیز ۔ رحیم بلوچ ایڈووکیٹ کے انگریزی آرٹیکل کا اردو ترجمہ

0
8

ایک انکوائری کمیشن نے 15 نومبر 2022 کو کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے کیمپ کا دورہ کیا۔ وی بی ایم پی انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہے جو پاکستانی فوج کی بلوچ عوام کی جبری گمشدگیوں کی پالیسی کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ انکوائری کمیشن کے وفد نے جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے لواحقین سے ملاقات کی جو اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں جنہیں پاکستانی فوج، انٹیلی جنس سروسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار یا اغوا کرتے ہیں پھر انہیں کوئی مقدمہ چلائے کے بغیر غیر متعینہ مدت کے لیے فوجی عقوبت خانوں میں قید رکھتے ہیں۔ کمیشن کی سربراہی بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر ایم این اے سردار اختر جان مینگل کر رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بی این پی پی ڈی ایم اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ یہ انکوائری کمیشن اپریل 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا جب وہ فروری 2022 میں معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن محترمہ ایمان زینب حاضر مزاری کی جانب سے عدالت میں دائر پٹیشن نمبر 794/2022 کی سماعت کر رہی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ طلباء کو کیمپسز میں، نیز ان کے آبائی شہروں میں بھی جب وہ وہاں اپنے اہل خانہ سے ملنے جاتے ہیں، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہراسانی، جبری گمشدگی اور نسلی پروفائلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کمیشن کے دورہ کرنے والے وفد میں سینیٹر کامرم مرتضیٰ ایڈووکیٹ، سینئر ایڈووکیٹ میر علی احمد کرد، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک اور دیگر شامل ہیں۔

اگرچہ یہ کمیشن مقبوضہ بلوچستان سے اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بلوچ طلبہ کی شکایات کی انکوائری کے لیے تشکیل دیا گیا ہے لیکن درخواست میں شکایت کی گئی مسائل صرف پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے والے بلوچ طلبہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ پورے بلوچستان کے بلوچ نوجوانوں خصوصاً طلباء کو یہی شکایت ہے۔ گو کہ درخواست میں صرف بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں، ہراسانی اور نسلی پروفائلنگ کی شکایت کی گئی ہے لیکن درحقیقت مقبوضہ بلوچستان میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو انہی جرائم کا سامنا ہے جو درخواست میں درج کیے گئے ہیں

بلوچستان کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رواں صدی کے آغاز سے ہی بلوچ نوجوانوں بالخصوص طلباء کی جبری گمشدگی، نسلی امتیاز اور ماورائے عدالت قتل کو بطور پالیسی ہتھیار اختیار کئے ہوئے ہیں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے عدالت کی جانب سے زیر بحث انکوائری کمیشن کے قیام کے باوجود جبری گمشدگیوں کی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ خود کو قانون، عدالتوں، کمیشنز یا پارلیمنٹ کا پابند نہیں سمجھتے. بلوچ محب وطنوں کی جبری گمشدگی کے اپنی وحشیانہ پالیسی اور ہتھکنڈوں کی موثر ہونے پر وہ پختہ یقین رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سردار مینگل سمیت کمیشن کے تمام ارکان کمیشن اور عدالت کے محدود دائرہ کار اور بے اختیاری سے بخوبی واقف ہیں اسی لیے انہوں نے مجرموں کو جوابدہ بنانے یا فوج اور انٹیلی جنس کو درخواست میں شکایت کی گئی جرائم سے روکنے کی اپنی اہلیت کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ انہوں نے صرف ایک ایسی رپورٹ تیار کرنے اور پیش کرنے کا وعدہ کیا جو صورتحال کی حقیقت اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور تکالیف کی سچی عکاسی کرے گی۔ وفد نے مقبوضہ بلوچستان کے کوئٹہ میں 12ویں کور کے کور کمانڈر سمیت مختلف حکام سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کا سب سے طاقتور ادارہ فوج ہے۔ پارلیمنٹ، ایگزیکٹو، عدلیہ اور میڈیا فوج اور انٹیلی جنس کی مقرر کردہ حدود میں کام کر رہے ہیں۔ نام نہاد سویلین اپنی حدود اور فوج کی ریڈ لائنز کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ پٹیشن میں بیان کردہ مسائل بالخصوص جبری گمشدگیوں کو حل کرنے کیلئے یہ پہلا کمیشن نہیں ہے۔ اس انکوائری کمیشن سے بہت پہلے، جبری گمشدگیوں کے شکایات کی انکوائری اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قائم کیا تھا۔ ایک بدنام زمانہ جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو اس کمیشن کا صدر/چیئرمین مقرر کیا گیا جو متاثرین کو صفر دادرسی کے ساتھ اب بھی اس عہدے پر فائز ہے جبری گمشدگی پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنی 2021 کی سالانہ رپورٹ میں جبری گمشدگیوں پر جسٹس جاوید اقبال کے کمیشن آف انکوائری کو صفر اعتبار کے ساتھ ناکام ادارہ قرار دیا تھا اور اسے تحلیل کرنے پر زور دیاتھا۔ تاہم زیر بحث کمیشن کو جسٹس جاوید اقبال کے کمیشن کے برابر قرار دینا غلط ہوگا کیونکہ دونوں کمیشنوں کا دائرہ کار اور تفویض کردہ ذمہ داری مختلف ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کے برعکس، سردار اختر جان اور ان کے کمیشن کے بیشتر ارکان، ان کی سیاسی نظریات اور پارٹی وابستگی سے قطع نظر، ہمیشہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے استعمال پر تنقید کرتے رہے ہیں لہٰذا انکوائری کمیشن کے طور پر ان کی پوزیشن پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس کے جرائم کو اجاگر کرنے کا انھیں، متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ، ایک اچھا موقع اور ایک مناسب پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

درحقیقت کٹھ پتلی سویلین حکومتیں عہدہ سنبھالنے سے پہلے فوج کے ساتھ معاہدہ کرتی ہیں اور مقبوضہ بلوچستان کے معاملات اور خارجہ پالیسی، خصوصاً بھارت اور افغانستان کے حوالے سے، اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے فوج اور انٹیلی جنس سروسز کے حق میں دستبردار ہونے پر متفق ہوتی ہیں۔ حکومتیں، ایسی بغیر ریڑھ کی ہڈی کے کمیٹیاں اور کمیشن صرف مسائل کو ٹالنے اور وقت گزارنے کے لیے قائم کرتی ہیں۔ ایسے کمیشنوں کا مقصد عالمی برادری، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور اندرون ملک لوگوں کو انسانی حقوق کے مسائل قانونی عمل کے ذریعے حل کرنے کا جھوٹا تاثر دینا بھی ہے۔
سپریم کورٹ کا بھی یہی حال ہے۔ وہ جان بوجھ کر ان فوجی اور انٹیلی جنس افسران کو طلب کرنے سے گریز کرتے ہیں جو جبری گمشدگیوں، ہراساں کرنے، نسلی پروفائلنگ اور مظلوم بلوچ عوام کی ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دار ہیں۔ وہ فوج اور انٹیلی جنس کے قہر سے بچنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک بار جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2007 میں مقبوضہ بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے فوج اور انٹیلی جنس حکام کو جوابدہ بنا کر اپنی آئینی حیثیت جتانے کی کوشش کی۔ سپریم کورٹ کی اس کوشش نے فوج کو بری طرح ناراض کیا۔ نتیجتاً فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے آئین کو ختم کر دیا، ججوں کو گرفتار کیا اور 2007 میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں فوجی اہلکاروں کے خلاف احکامات جاری کرنے سے گریز کرتی ہیں اور بے اختیار کٹھ پتلی ایگزیکٹو کو ہدایات جاری کرنے کو ترجیح دیتی ہیں عدالتوں کی اس طرح کی ہدایات کا مقصد مجرموں یعنی طاقتور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سخت باز پرس کرنے کے بجائے دیگر ریاستی اداروں پر بوجھ منتقل کرناہے۔ عدالت عظمیٰ کا اس طرح کا عمل اپنی ناک بچانے کے سوا کچھ نہیں۔

مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر ایک منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذکورہ کمیشن کی تشکیل اور اس کی کارروائی ایک فضول مشق ہے یا جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے کیس کو آگے بڑھانے میں مددگار ہے؟ سوال کا مختصر تجزیہ بتاتا ہے کہ عدالتوں اور اس طرح کے کمیشنوں کی کارروائیاں کوئی فضول مشق نہیں ہیں. اگرچہ عدالتوں اور ایگزیکٹو کی طرف سے اس معاملے کو انکوائری کمیشنوں یا کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا مقصد بوجھ کو ذمہ داری کو منتقل کرنا، وقت خریدنے یا اپنی ناک بچانے کے لیے معاملے کو موخر کرنا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پاکستان کو مقبوضہ بلوچستان میں قانون کی حکمرانی کا غلط تاثر دینے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ قابض پاکستان کے قانونی نظام میں عارضی یقین کو بھی فروغ دے سکتا ہے مذکورہ بالا تمام خرابیوں کے باوجود، کینگرو کورٹس اور بے اختیار انکوائری کمیشنوں اور کمیٹیوں کی کارروائیاں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف تحریک کو زندہ رکھنے، انسانی حقوق کے گروپوں، میڈیا اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہ عوام کو متحرک کرنے اور پاکستان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے میں بھی مددگار ہیں۔اس طرح کے پلیٹ فارمز کی کارروائیاں پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس سروسز کی وحشیانہ کارروائیوں، انسانیت کے خلاف ان کے جرائم، جنگی جرائم اور بلوچستان میں پاکستان کی نوآبادیاتی حکمرانی کو بے نقاب کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔

ایسی کمیٹیوں اور کمیشنوں کا قیام پاکستان کی جانب سے بلوچ نوجوانوں، طلباء اور دانشوروں کی جبری گمشدگیوں کو بلوچ تحریک آزادی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے اعتراف کے مترادف ہے۔ اس طرح کے پلیٹ فارمز اور ان کی کارروائیاں بلوچستان کی تحریک آزادی کے اجزاء کے لیے جبری گمشدگیوں اور بلوچ محب وطنوں کے ماورائے عدالت قتل جیسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک موثر ذریعہ کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔

اس مضمون کا اختتامی نکتہ یہ ہے کہ بلوچ عوام بالخصوص نوجوانوں اور طلباء کی جبری گمشدگیوں، ان کو ہراساں کرنے، ان کی نسلی پروفائلنگ اور ماورائے عدالت قتل کے مسائل پر اس طرح کے کمیشنوں کی تشکیل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بلوچستان کی جدوجہد آزادی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان ایک قانونی ادارے کے طور پر اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک نے خطے میں پاکستان کی استعماری اسٹیبلشمنٹ کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی فوج بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق بلوچستان کی آزادی کی قوتوں اور آزادی کیلئے عوام کی دیرینہ خواہشات کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت کھو چکی ہے۔

اگرچہ بعض اوقات غیر ملکی تجزیہ نگار بلوچ تحریک آزادی کو نچلی سطح کی بغاوت قرار دیتے ہیں لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو پاکستان اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر ہی اس سے نمٹتا۔ پاکستان کا مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں، ”قتل کرو اور پھینک دو“وغیرہ کا استعمال اور اس کے جنگی جرائم ایک مختلف حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رحیم بلوچ ایک ایڈووکیٹ، بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم)کے سابق سیکرٹری جنرل اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق
چیئرمین ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں