پاکستانی زیر قبضہ کشمیر: بلدیاتی انتخابات اور قومی شناخت کا سوال ۔نیوز انٹرونشن رپورٹ

0
7

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں لوکل باڈی ا لیکشن کا اعلان ہوا، اور آزادی پسندوں کا رجحان مکمل طور پر پاکستانی ڈھانچے میں ڈالنے کے لیے پاکستانی خفیہ اداروں کی یہ چال اپنے نشانے پر لگا ہے جہاں آزادی پسندوں سمیت جموں کشمیر کے عوام کو انکی سرزمین،حق حاکمیت اور قومی شناخت سے دور لے جانے کی قابض پاکستانی ریاست کی یہ چال کہ انکو بنیادی مسائل میں اُلجھا کر کشمیری عوام پر حاکمیت کی جائے۔

الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) نے 31 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔جاری کردہ شیڈول کے مطابق پولنگ 27 نومبر کو صبح 8 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ پولنگ ختم ہوتے ہی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
اس بلدیاتی انتخابات میں پاکستانی جبری قبضے کے خلاف آواز اُٹھانے والے تمام تنظیموں اور رہنماؤں کو بھی اس دوڑ میں شامل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے،بظاہر وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے انتخابات کا حصہ بن رہے ہیں،مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ایک نام نہاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ہاتھ میں جب کچھ نہیں ہے تو یہ کونسلر کون سی کھیت کی مولی ہیں۔

شاید اپنی قومی شناخت کی بات کرنے والوں کو ایک دن یہ سمجھ آ جائے مگر پھر پانی سر سے پار ہو چکا ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت اب تک 42 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے جبکہ مزید 10,556 امیدوار 10 ضلع کونسلوں، پانچ میونسپل کارپوریشنوں، 14 میونسپل کمیٹیوں، 12 ٹاؤن کمیٹیوں اور 278 یونین کونسلوں کی نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔

ایک مقامی شخص نے کہا کہ 75 برسوں میں غیر ریاستی پارٹیوں اور غیر ملکی سہولت کاروں نے عوام کو دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا۔ عوام آج بھی بنیادی حقوق سے محروم، آج بھی محکوم و مجبور ہیں جسکی وجہ زیادہ تر لوگ اس انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

انکے مطابق اس بار عوامی حقوق کی جنگ لڑنے والے، ہر لمحہ عوام کے بیچ رہنے والے، حقوق کی خاطر ریاستی جبر و تشدد سہنے والے، محنت کش طبقے کے حقیقی نمائندگان کا ساتھ دے کر کامیاب کریں کیونکہ یہ لوگ مفاد کی سیاست کرنے نہیں آئے بلکہ آپ کے حقوق کی جنگ لڑنے آئے ہیں۔

ایک کشمیری لکھاری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کا سوال اور ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا ہوا وقت اہم سوال ہے،
ریاست پاکستان کے حقیقی حکمرانوں اور اشرافیہ نے پاکستان میں کوئی انقلابی تنظیم جو عوام کے لئے کام کر سکے تعمیر ہی نہیں ہونے دی, چونکہ یہ ریاست اپنے قیام سے لے کر آج تک عالمی سامراج کے گماشتے کے طور پر, اس کے مفاد کے لئے کام کرتی آ رہی ہے اس لئے محنت کش عوام کے لئے کام کرنے والی نظریاتی تنظیم کی تعمیرنہ تو سامراج کے لئے قابل قبول رہی ہے اور نہ ہی پاکستانی ریاست کی گماشتہ اشرافیہ کے لئے، اس لئے ایسی کسی تنظیم کے بننے کے عمل کو ہمیشہ سختی سے کچلا گیا ہے جس کے لئے فوجی اشرافیہ کو ہمیشہ سے سامراج کی مدد اور آشیر باد رہی ہے۔ اور یہ بات جب تک کشمیری عوام نہیں سمجھ پھائیں گے تب تک انکے قومی جہد مشکل ہو گا۔

سنیئر جموں کشمیر کے رہنما حبیب الرحمان کہتے ہیں کہوطن چھن جانے سے پہلے بھی ہمارے حصے میں دکھ تھے لیکن بے تو قیر نہ تھے پہاڑ اور ابشاریں دکھ میں بھی سر کی دستار تھے ، لیکن جب عقیدے کے نام پر زمین زمین زادوں سے چھین لی گئی ان کی لیر لیر دستار جو پہاڑوں اور ابشاروں نے ان کے سروں پہ تان رکھی تھی اس کو داغ داغ کر کے بے توقیر کردیا گیا۔ اس بے توقیری، درد، تکلیف اور بے ابروں کئے جانے کے دکھ درد کو ہمارے لکھنے والے نے اپنی آواز نہیں بنایا۔ شاید یہی ہمارا ادب ہے۔
یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارے لکھنے والے نے ہنستے مسکراتے حاکم آقا کے قبضے اور اس کی بربریت کے حق میں دلیل دی وطن اور اس کے زمین زادوں کے وجود کو نہ صرف کرچیا کرچیا کر دیا بلکہ ان کے وجود سے بھی انکار کر دیا، جس وجہ سے زمین زادے اپنی زات تک کھو گئے۔
اس پر بات کرتے ہوئے میری زبان لڑکھڑا جاتی ہے آنکھ کا ہرگوشہ نم ہو جاتا ہے جو فقرے میں نے لکھے ہیں مجھے اندازہ نہیں کہ کہاں سے آئے ہیں ایک بھی لفظ میرا سوچا ہوا نہیں طے شدہ نہیں۔ کسی ایک لمحے دل میں درد کی ایک لہر اٹھتی ہے تو یہ لفظ بول اٹھتے ہیں۔ اور شاید یہ وہی درد ہے جو زمیں زادے سہہ رہے ہیں اپنا وطن اور زمین کھو جانے کا بے کراں درد۔ اس درد کو کہنے اور سننے کے لئے بھی حوصلہ چائیے اور یہ درد سہنے والے پہاڑوں کا جگر رکھتے ہیں۔

ایک اور جموں کشمیر کے لکھاری کہتے ہیں کہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان پر قابض پاکستان تاریخ کی شرمناک شکست اور شرمندگی کا شکار ہو رہا ہے۔ جس نے اپنے معصوم پڑوسیوں (جموں کشمیر، بلوچستان) کے خون نا حق ہر اپنی بنیاد رکھی تھی آج تاریخ اس کو مجرم قرار دے چکی ہے۔
تاریخ کا یہ مجرم ابھی مزید خون ریزی تو کرے گا لیکن تاریخ کے پاتال میں اس کی بربادی لکھی جا چکی ہے۔

جموں کشمیر کے عوام ایک طرف اپنی قومی شناخت اور سرزمین کے لیے فکر مند ہیں اور دوسری طرف بنیادی مسائل کا شکار ہیں،اب یہ وقت طے کرئے گا کہ بلدیاتی انتخابات ہوتے بھی ہیں اگر ہوئے بھی تو کتنے شفاف ہوتے ہیں اور پھر آزادی پسندوں یا انکے امیدوار اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں