پاکستان:فوج کے خلاف عمران خان کے الزامات ناقابل قبول ہیں،آئی ایس پی آر

0
7

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ادارے کے خلاف بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات یکسر ناقابل قبول ہیں۔ عمران خان کے بالخصوص ایک اعلٰی فوجی افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج ایک انتہائی پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل فوج ہے، فوج کا ایک مضبوط اور انتہائی مؤثر اندرونی احتسابی نظام ہے، پاک فوج کو انتہائی پیشہ ورانہ ہونے پر خود پر فخر ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی ادارے یا اس کے سپاہیوں کی بے عزتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومتِ پاکستان سیدرخواست کی ہیکہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، حکومت بغیرکسی ثبوت ادارے کی ہتک کے ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی کرے۔

پاکستانی فوج نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں وہ خود پر حملے کا ذمہ دار وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے علاوہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ میجر جنرل فیصل نصیر کو قرار دیتے ہیں۔

ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان، جو لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد لاہور میں زیرِ علاج ہیں، نے جمعے کی شب ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’تینوں کے استعفوں تک احتجاج جاری رہے گا۔‘ انھوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے مطالبہ کیا کہ فوج میں ’کالی بھیڑوں‘ کی خلاف ایکشن لیا جائے۔

واضح رہے کہ جمعرات کی شام تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا قافلہ اللہ والا چوک کے علاقے سے گزر رہا تھا جب مرکزی کنٹینر پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تحریکِ انصاف کے سربراہ سمیت کم از کم 14 لوگ زخمی ہوئے۔

پنجاب میں، جہاں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، اس واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے بعد عمران خان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ’ہم نے ایف آئی آر رجسٹر کرنے کی کوشش کی۔ سب ڈرتے ہیں۔ میں جنرل باجوہ سے پوچھتا ہوں کیا میجر جنرل فیصل کی تفتیش ہونے دیں گے آپ؟‘

انھوں نے اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی انصاف یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں