مقبوضہ بلوچستان:گوادر میں حق دو تحریک کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز میں داخل

0
5

مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حق دو تحریک بلوچستان کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہے

حکومتی وفد پانچویں روز بھی مذاکرات کیلئے نہیں آیا۔

پانچویں روز خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ ہم کسی کے آلہ کار نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارا دھرنا کسی کے ڈکٹیشن پر شروع ہوا ہے اور نہ ہی کسی کے ڈکٹیشن پر ختم ہوگی۔ سرکار ہمارے احتجاج ومطالبات کو سنجیدہ لیں اور ان مطالبات کو فوری طورپر عملی جامعہ پہنائیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے کرپٹ حکمرانوں۔ جابروں۔ ٹرالر مافیا کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور اس جنگ میں ہمارے پاس ناکامی اور شکست کے دروازے بند ہیں ہم صرف کامیاب و کامران ہونے کیلئے جنگ کررہے ہیں جس کے لیے مکران بھر کے نوجوان آکر جنگ کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہاکہ کوسٹ گارڈ کا کام اسمگلروں کو پکڑنا اور منشیات کو شہر کے اندر داخلے سے روک دینا ہے لیکن کوسٹ گارڈ اپنے زمہ داریاں نبھانے کی بجائے غریب لوگوں کے گھی اور چٹنی کو پکڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا احتجاج پرامن ہے ہم پرامن طریقے سے اپنی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں ان حقوق کی جسکی اجازت ہمیں 1973 کے آئین پاکستان دیتی ہے۔ ہمارا مطالبہ اورنج ٹرین۔ سنگ مرمر کی سڑکیں اور موٹروے بنانا نہیں ہے بلکہ ہمارا مطالبہ پانی۔ بجلی۔ عزت کی زندگی گزارنا۔ روزگار ہے لیکن انکو بھی ہمیں حکمران نہیں دے رہے ہیں تو اس پر احتجاج ہمارا حق بنتا ہے اور ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ چیف سکریٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان نے یہ طے کیا ہے کہ ہم حق دو تحریک کے رہنماؤں سے مزاکرات نہیں کرینگے بلکہ طاقت کے ذریعے دھرنا کو ختم کریں گے تو آج ہم بھی آئی جی بلوچستان اور چیف سکریٹری بلوچستان سے کہتے ہیں کہ وہ آئیں اور طاقت کا مظاہرہ کرکے ہمارے دھرنے کو ختم کروائیں ہم بھی مزاحمت نہیں کرینگے لیکن طاقت کے استعمال کے بعد یہاں نہ گوادر پورٹ چلے گا اور نہ ہی سی پیک کے کام ہونگے۔ سب کچھ جام کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے ہسپتالوں میں پیناڈول گولی دستیاب نہیں ہے تو ہم پاک سر زمین شاد باد کیسے کہیں۔ پاک سر زمین شاد باد وہ لوگ کہیں جن کو پاکستان پال رہاہے۔ ہمارے پاس نہ تو پانی ہے اور نہ ہی بجلی و روزگار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے تمام مطالبات تسلیم نہیں کی جاتے ہمارا دھرنا جاری رہے گا اور ہم نے ارادہ کیا ہے کہ حق دو تحریک 100 دن تک احتجاج میں بیٹھے گی جس کے لیے مکران بھر سے نوجوانوں اور بزرگوں کو آکر اس تحریک کا حصہ بننا ہوگا۔ دھرنے سے ضلع کیچ کے رہنما یعقوب جوسکی۔ پسنی کے رہنما عزیز اسماعیل۔ ترجمان حق دو تحریک حفیظ کھیا زئی۔ شریف میانداد اور شکیل کے ڈی سمیت دیگر کارکنان نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں