بلوچ عوام کو کچلنے کیلئے پاکستان اپنی تمام جدید فوجی سہولتیں استعمال کر رہا ہے،ڈاکٹر نسیم بلوچ

0
12

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کا یہ انٹرویوبھارتی نشریاتی ادارے ”نیوزانٹروینشن“کے ایڈیٹر انچیف وویک سنہا نے کیا ہے جو ”نیوزانٹروینشن“ کے انگلش ایڈیشن ویب سائٹ میں شائع ہوا ہے۔ ہم اس کا اردو ٹرانسلیٹ ورژن ”زرمبش“ کے شکریے کے ساتھ اپنے قارئین کی دلچسپی و معلومات کے پیش نذریہاں شائع کر رہے ہیں۔اس انٹرویو میں چیئرمین بی این ایم بتاتے ہیں کہ بلوچستان کس طرح پاکستان سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔اورپاکستان بلوچ عوام کو کچلنے کے لیے اپنی تمام جدید فوجی سہولتیں استعمال کر نے کے باوجود وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ادارہ سنگر

وویک سنہا: آپ نے ایک ایسے وقت میں بی این ایم کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے جب بلوچستان پر پاکستانی مظالم ہر روز بڑھ رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں بلوچستان پر پاکستانی مظالم کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: پاکستان کا مقصد بلوچ قوم، بلوچ تہذیب اور طرز زندگی کو ختم کرنا ہے جو پاکستان بننے سے پہلے صدیوں سے موجود تھا۔ ان اہداف کے حصول میں اس نے ریاستی پالیسی کے طور پر جبر، نسل کشی (بشمول ثقافتی اور لسانی) اور وحشیانہ جبر کو اپنایا ہے اور میں ان سے اس وقت تک یہ روکنے کی امید نہیں رکھتا جب تک کہ وہ مطمئن نہ ہوں کہ انھوں نے بلوچ شناخت کو مٹا دیا ہے۔ دوسری طرف، بلوچ اپنی سرزمین کی آزادی کو دوبارہ حاصل کرنے، اپنی ثقافت، اپنی شناخت اور اپنے طرز زندگی کو بچانے کے لیے اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان رد عمل ظاہر کر رہا ہے، اور بلوچ عوام کی وجود کو مٹانے کے لیے انتہائی حد تک جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری نظر میں پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خاص طور پر جب تک پاکستانی قبضے کے خلاف مزاحمت موجود ہے، یہ پاکستان کی ناکامی ہے۔ جب کوئی ریاست تمام جدید فوجی طاقتوں کے ساتھ اپنے قبضے کو جاری رکھنے کے لیے نسل کشی کا ردعمل ظاہر کرتی ہے تو یہ اس کی ناکامی کی علامت ہوتی ہے۔ بصورت دیگر عام ریاستیں اپنے ڈومینز میں قومیتوں کے ساتھ بات کرتی اور رابطے میں رہتی ہیں۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح برطانیہ نے ایک طویل نوآبادیاتی تاریخ کے بعد اسکاٹش قوم کے ساتھ اپنے اختلافات کو وحشیانہ تشدد جیسا کہ اس نے ہندوستان میں کیا تھا، کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے سنبھالنا سیکھا ہے۔ پاکستان ہمارے لوگوں کو قائل کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے وہ بلوچ وسائل پر قبضے اور استحصال کو جاری رکھنے کے لیے اپنی بربریت، تشدد اور غنڈہ گردی اور بلوچستان کے سیاسی اور ثقافتی منظر نامے کو غلط پیش کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

وویک سنہا: بی این ایم چیئرمین کی حیثیت سے آپ کی اولین ترجیحات کیا ہیں؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: بلوچستان اور بیرون ملک تنظیم کاری، بی این ایم میں ماہرین کا انتخاب اور ان کو مختلف محکموں میں ذمہ داریاں دینا جو ہم نے حال ہی میں بنائے ہیں۔ مثال کے طور پر، خارجہ، اطلاعات، انسانی حقوق اور بہبود کے محکمے۔ ان سب نے سیکرٹری منتخب کیے ہیں اور انھیں ارکان کو کام سونپنے کا اختیار حاصل ہے۔ ہمارے پاس ڈیٹا اکٹھا کرنے، تجزیوں اور ریکارڈ رکھنے کی بنیاد پر ان محکموں کو مزید ترقی دینے اور ان کی ساخت بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ آنے والی قیادت کے پاس ریکارڈ کی کمی نہ ہو اور وہ آسانی سے کام کرتے رہیں۔ یہ ہمارے کاموں میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ تمام محکموں نے پہلے ہی اپنے اپنے شعبوں میں ذمہ داریوں اور کاموں کے مطابق مربوط انداز میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے ہمیں مستقبل میں ہماری خفیہ اور ظاہری سفارت کاری میں مدد ملے گی جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا اور عوامی سفارت کاری کی دوسری شکلیں شامل ہیں جو عالمی فورمز پر ہمارے مختلف مقاصد کے حصول میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔

وویک سنہا: کیا آپ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر پانچ ستارہ تنظیموں پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان پر بے گناہ بلوچوں کی جبری گمشدگی کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں؟ آپ معصوم بلوچوں کے بارے میں پاکستان کی بدنام زمانہ ”مارو اور پھینک دو“ کی پالیسی کو کیسے روکیں گے؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: جیسا کہ میں نے پچھلے سوال میں بتایا تھا کہ پاکستان اپنے مظالم سے باز نہیں آ رہا ہے کیونکہ وہ بطور ریاست ناکام ہو چکا ہے اور دوسری طرف بلوچ اپنی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے بارے میں میں یہ کہوں گا کہ ہم نے امید نہیں ہاری حالانکہ وہ بہت زیادہ عالمی طاقتوں کے زیر اثر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آف انفورسڈ اینڈ انوالنٹری ڈس اپیئرنس نے کیسز کے بارے میں جاننے کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اگرچہ انھیں بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر بھی بلوچ نمائندوں نے ان سے ملاقات کی۔ جیسا کہ ہمارے لوگ پاکستان اور اس کے نظام انصاف سے امید کھو چکے ہیں، ہماری امید اقوام متحدہ اور دیگر حقوق کی تنظیمیں ہو سکتی ہیں۔ کوئی بات نہیں، انھوں نے اس نازک لمحے میں بلوچستان کی طرف آنکھیں بند کر رکھی ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہمارے بین الاقوامی احتجاج، اور نہ ختم ہونے والی پاکستانی سفاکیت اقوام متحدہ سمیت دنیا کو مداخلت کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک عوامی سفارت کاری کے آلے کے طور پر بلوچ عوام کی حالت زار اور پاکستان کے ایک قابض ملک کے طور پر انسانی جانوں کی پرواہ کیے بغیر برے کردار کے بارے میں عالمی برادری میں بیداری بڑھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

وویک سنہا: گذشتہ 25 سالوں میں پاکستانی حکومت کے ہاتھوں لاپتہ یا مارے گئے بلوچوں کی کل تعداد کتنی ہے؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: بلوچستان ایک بہت وسیع ملک ہے۔ ماورائے عدالت قتل یا اغوا ہونے والے تمام افراد کی تمام معلومات اور ڈیٹا اکٹھا کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن، پاکستان کی طرف سے اتنی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود، بی این ایم سمیت مختلف تنظیمیں ان میں سے ایک بڑی تعداد کی فہرست بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ اور ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے بار بار جبری لاپتہ افراد کے زیادہ تر معاملات کو کسی نہ کسی طریقے سے قبول کیا ہے، زیادہ تر اپنے میڈیا پلیٹ فارمز پر۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ، بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی سمیت ماضی کے اعلیٰ حکومتی عہدیداران اپنے دور حکومت میں 20 ہزار سے زائد افراد کی گرفتاری کا کھلے عام میڈیا کے سامنے اعتراف کر چکے ہیں۔ ان میں سے کسی کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اسی طرح، ماورائے عدالت قتل کی بھیانک تعداد رکارڈ پر ہے، جس میں تشدد زدہ لاشوں کی تعداد 7000 سے تجاوز کر گئی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2011 سے 2016 تک ریاستی فورسز کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائد بلوچ مارے گئے۔

وویک سنہا: نائلہ قادری نامی خاتون پوری دنیا کا دورہ کرتی ہیں اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لیکچر دیتی ہیں۔ آپ کی رائے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ: بہت سے لوگ ہیں جو بلوچ عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جن میں بہت سے غیر بلوچ دوست بھی شامل ہیں۔ ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ محترمہ قادری ایک تجربہ کار ایکٹوسٹ ہیں کیونکہ وہ مختلف مواقع پر بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی رکن رہی ہیں۔ اگر انھوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرنے کا انتخاب کیا ہے تو اس کا ہر کوئی خیر مقدم کرے گا۔ لیکن ہر کسی کو اپنے موقف اور سیاسی وابستگی پر ایک طویل مدت تک ثابت قدم اور مستقل رہنا ہوگا تاکہ لوگ ان پر اعتماد کرسکیں۔

وویک سنہا: نائلہ قادری نے جلاوطن بلوچستان حکومت بھی بنائی ہے۔ اس بارے میں پوری کہانی کیا ہے؟ کیا بلوچستان کے عوام اس جلاوطن حکومت کو قبول کرتے ہیں؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: میرا ماننا ہے کہ قانونی حیثیت کے لیے ایسے اقدام کے لیے بلوچستان کی جدوجہد آزادی کے متعدد اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔ یہ تبھی کام کرے گا جب ہم اپنے درمیان ایک متفقہ اتفاق رائے اور کم سے کم سطح کی ہم آہنگی شروع کر دیں۔ بصورت دیگر، میں اسے صرف ایک اور غیر ضروری عوامی بیان کے طور پر دیکھتا ہوں جو بلوچ عوام کے احساس اور جذبات سے کھیلنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

وویک سنہا: حال ہی میں ثاقب بلوچ کو آذربائیجان میں قتل کیا گیا جو کہ سویڈن میں ساجد حسین اور کینیڈا میں کریمہ بلوچ کے قتل کے مترادف ہے۔ کیا آپ ثاقب بلوچ کے قتل میں پاکستان کا ہاتھ دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں پاکستان بلوچ تارکین وطن کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟

ڈاکٹر نسیم بلوچ: ہر تحریک میں تارکین وطن نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلوچ ڈائسپورا بہت زیادہ نہیں ہے اور حال ہی میں یہ کئی ممالک تک پہنچی ہے۔ یہ اب اکھٹے ہو رہا ہے اور طاقت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نکل کر مختلف ممالک میں پناہ لے چکی ہے۔ پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ بی این ایم اور بی ایس او جیسی بلوچ سیاسی جماعتوں پر غیر اعلانیہ پابندی اور وحشیانہ قتل و غارت گری کی پالیسی کے بعد بہت سے سیاسی کارکنان زیر زمین یا بیرون ملک چلے گئے۔ کارکن بلوچستان میں مزاحمت کو توانا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بلوچ آزادی کی جدوجہد کے بارے میں بیداری لانے کے لیے دیگر کمیونٹیز کے ساتھ بھی مصروف عمل ہیں۔ اس تعداد اور ان کے کام نے پاکستان کو پریشان کر دیا ہے۔ اس لیے اس نے ڈائسپورا کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ثاقب بلوچ ان میں سے ایک ہیں۔ ان کے دو بھائی جبری گمشدگی کا نشانہ بنیتھے، جنھیں پاکستانی فوج نے ان کی سرگرمی کی وجہ سے شہید کرکے پھینک دیا تھا۔ ثاقب بچ نکل کر آذربائیجان جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں