مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کے احتجاج کو کمیٹیوں کے نام پر ختم کرایا گیا۔ رپورٹ

0
49

مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرحکومت اور پیپلز رائٹس فورم کے مابین مزاکرات،مطالبات کیا تھے اور مزاکرات کیا ہوئے
مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرکو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دیا جائے،
مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں لوڈشیڈنگ فری زون کے حوالہ سے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو حکومت پاکستان کے سامنے کیس اٹھائے گی کے آزاد کشمیر میں 435 میگا واٹ بجلی مہیا کی جائے حکومتی کمیٹی نے زمہ داری نہیں لی کے حکومت پاکستان کو مجبور کیا جائے گا کے فری زون قرار دیا جائے فیصلہ حکومت پاکستان کے رحم و کرم پہ ہو گا جو پہلے ہی آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ فری زون قرار دینے سے انکار کر چکی ہی۔

مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرکے ایکٹ میں 15ویں ترمیم کا نامنظور
مزاکرات میں طے پایا کے زیر گردش مسودہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا واضع رہے حکومت پاکستان نے ابتدائی مسودہ بھیجا تھا جس کا حتمی ڈرافٹ تیار ہونا ابھی باقی ہے زیر گردش مسودے میں ممکنہ معمولی تبدیلی کے بعد 15ویں ترمیم پیش ہو جائے گی جس کی اجازت مزاکرتی کمیٹی نے دے دی ہے۔

مراعات یافتہ طبقے کی مراعات کا خاتمہ
مزاکرات میں طے پایا کے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تجاویز دے گی واضع رہے پارلیمان اپنی ہی مراعات ختم نہیں کرے گا یہ مطالبہ بھی ٹال مٹول کا شکار ہو گیا ہے۔

مقبوضہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں بلات پہ ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ
مزاکرات میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجنگ کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ بلات میں مختلف ٹیکسز ہیں جو غیر ضروری تو ہیں لیکن مزاکرات کے بعد دیگر ٹیکسز برقرار رہیں گے دو ماہ میں ٹیکسز کے حوالہ سے فیصلہ کیا جائے گا۔

ٹورازم ایکٹ
ٹورازم اتھارٹی کے لیے طے پایا کے زیرگردش مسودہ اسمبلی میں پیش نہیں ہو گا مسودے میں تبدیلی کے بعد اسمبلی میں پیش ہو گا قبل ازیں مظاہرین کا مطالبہ تھا اتھارٹی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا حکومتی کمیٹی یہ تسلیم کروانے میں کامیاب ہوئی کے ٹورازم اتھارٹی کا قیام ضرور ہو گا البتہ مسودے میں کچھ ترامیم ہوں گی۔

آٹے پہ سبسڈی کی بحالی
مزاکرات میں طے پایا کے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اپنی سفارشات حکومت کو ارسال کرے گی واضع رہے 2 سال قبل آٹے کی سبسڈی کی بحال کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی دو سال سے کمیٹی سفارشات یا فیصلہ نہ کر سکی مزید ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

تمام اسیران کی غیر مشروط رہائی
مزاکراتی کمیٹی تمام اسیران کو رہائی کا مطالبہ منوانے میں ناکام رہی تحریک کا آغاز تھوراڈ کھڈ سے ہوا وہاں کے اسیران اور ایف آئی آر التوا میں رکھ دی گئی فورم نے اعلان کیا تھا اسیران کی رہائی تک مزاکرات نہیں ہوں گے، بلخصوص لیاقت حیات مزاکرات میں شامل ہوں گے تاوقت تحریر نہ ہی مقدمات ختم ہوئے اور نہ اسیرن رہا ہو سکے تحریک کے آغاز کرنے والے مقدمات گرفتاریوں کا سامنا کرینگے۔

عابد عزیز پہ ظالمانہ تشدد کی انکوائری
مزاکرات میں عابد عزیز پہ ظالمانہ تشدد عجلت میں فیصلہ عدالتی انکوائری پی چھوڑ دیا گیا جبکہ فورم کا مطالبہ تھا تشدد میں ملوث اہلکاروں کو نوکری سے معطل کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جبکہ مزاکرات میں ایسا ممکن نہ ہو سکا
معائدے کے آخر میں طے پایا کے آئندہ احتجاج حکومت کی اجازت سے ہو گا۔

اس پورے مذاکرتی طریقے سے لگتا ہے کہ مذاکرات کے نام پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے احساسات کے ساتھ کھیلا گیا ہے جو یقینا عوام کے ساتھ دھوکا دہی کے علاہ کچھ نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں