بلوچ نیشنل موؤمنٹ کاتشدد و انسداد منشیات کے عالمی دن پر عالمی سطح پر مظاہروں کاا علان

0
30

بلوچ نیشنل موومنٹ کی طرف سے 26 جون ”تشدد و انسداد منشیات کے عالمی دن“کی مناسبت سے عالمی سطح پر مظاہرے اور ریفرنس کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست پاکستان نے بلوچستان کو بلوچ عوام کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل کردیا ہے، جہاں نہ بلوچ نوجوان محفوظ ہیں اور نہ ہی خواتین، بزرگ اور بچے۔

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا بلوچستان کے عوام کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر زندانوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تشدد ایک ناقابل قبول عمل ہے جسے اقوام متحدہ اور اس سے منسلک ادارے رد کرچکے ہیں۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ Committee Against Torture (CAT) تشکیل دیا گیا ہے جو ان معاملات کا مشاہدہ کرتی ہے۔ تشدد کی روک تھام کے لیے 26 جون کو تشدد کے عالمی دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو پیغام دیا جاسکے کہ تشدد ایک غیر قانونی و غیر اخلاقی عمل ہے جس کی ہر سطح پر بیخ کنی ضروری ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 26 جون کو منشیات کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ منشیات ایک زہر ہے جو انسان کو سحر میں مبتلا کرکے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ اس کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو ختم کردیتی ہے۔بلوچستان میں ریاست پاکستان نے منشیات فروشوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرکے ان کی سوچنے کی صلاحیت کو ختم کرنا اور سماج کو زہرآلود کرکے یہاں سیاسی، تعلیمی اور دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔

ترجمان نیکہا کہ 26 جون تشدد سے متاثرہ افراد کی بحالی، انھیں انصاف کی فراہمی اور انسانوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنے کا دن ہے۔عالمی قوانین کے تحت تشدد ایک ذلت آمیز اور غیر منصفانہ اقدام ہے جو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔بلوچستان میں ریاست کے خفیہ ادارے اجتماعی سزا کے عمل کے تحت لوگوں کو جبری گمشدہ کرکے مشتبہ اعتراف جرم پر مجبور کرنے کے لیے تشدد کا ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔

یہ تشدد کرنے والے افراد ہر طرح کے غیر انسانی تشدد کرتے ہیں جو ایک جرم ہے لیکن یہ جرم کرنے والے مجرموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلا خوف و خطر لوگوں پر تشدد کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دیتے ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں تمام ھنکین اور بیرون وطن چیپٹرز کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 26 جون تشدد و انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر عالمی سطح پر مظاہرے کریں تاکہ دنیا کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرکے پاکستان کے اصل چہرے کو اجاگر کیا جاسکے۔ مقامی سطح پر ھنکین ریفرنس کا انعقاد کرکے تشدد سے متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کریں اور ان کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں