پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کاوزیر اعظم کتنے بااختیار ہوتے ہیں؟ جنید کشمیری

0
30

اور سردار تنویر الیاس صاحب کو ہی کیوں آزاد کیا جائے؟ کیا ایسا صرف سردار تنویر الیاس صاحب کے ساتھ ہی ہوا ہے؟

25 مئی کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے دوران سابق وزیر امور جموں و کشمیر علی امین گنڈاپور کی گود میں سر رکھ کر ٹانگیں پھیلائے اور عاجز آئے وزیر اعظم صاحب کی فوٹو اس وقت سوشل میڈیا پر بھرپور گردش کر رہی ہے اور خاص طور پر اس خطہ کی اپوزیشن نے اپنی تنقید کا سلسلہ دھڑلے سے جاری رکھا ہوا ہے۔ تصویر بار بار سامنے آ کر ڈسٹرب کر رہی ہے۔

ہر کوئی اپنا اپنا تبصرہ کر رہا ہے اس لئے سوچا کیوں نہ اس پر ہم بھی اظہار خیال کر لیں تاکہ اصل حقائق، وجوہات اور ان کے حل و تدارک بارے پیش رفت ہو سکے۔

پہلی سب سے بڑی حقیقت ور سچائی یہی ہے کہ پاکستانی وفاقی وزیر امور جموں و کشمیر،پاکستانی آزاد جموں و کشمیر کے وائسرائے، سربراہ، مالک و آقا ہوتے ہیں۔یہ کوئی نیاء نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ جو اب رویت، رواج سے مسلمہ روائیتی قانونی روپ دھار چکا ہے۔

جبکہ جس کو آزاد، یعنی آزاد جموں و کشمیر کہا جاتا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کہ اس خطہ کا اپنا وزیر اعظم اور صدر ہے،جبکہ اس کی بھی یہی سچائی ہے کہ یہ سب براہ نام ہے۔

پتلے کو خوبصورت لباس پہنایا گیا ہے، میک اپ کیا گیا ہے اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے محض الفاظ کا چناؤ ہے۔

جس طرح بھوکا لفظ روٹی سے سیراب نہیں ہو سکتا ہے ایسے ہی انہی الفاظ ناموں کی حیثیت ہے۔

اصل اختیارات کا مجاز و سرچشمہ اس خطہ پر مسلط کیے گے پاکستان کے آفسیران ہی ہیں۔ جو سیاہ و سفید کے مالک اور حکمران ہوتے ہیں۔اقتدار و اختیار انہی کی مرہون منت ہے۔ ان کے آگے اس خطہ کی اسمبلی کی حیثیت ایک کھٹ پتلی سے بھی کم درجہ کی ہے۔

کشمیر امور کا جوائنٹ سیکریٹری ان سے زیادہ بااختیار اور طاقت ور ہے۔اسی کی خوشنودی ہی مفادات کی سیڑھی کی شرط و بنیاد ہے۔ پاکستانی مقتدر حلقوں نے کئی بار ایسا کہا اور عملی طور پر دیکھایا بھی کہ ایک کلرک، یا نائب صوبیدار یہاں کے وزیر اعظم کو کان سے پکڑ کر وزرات اعظمی کی کرسی سے اٹھا دیتا ہے۔

یہ موضوع اس وقت بڑا گرم رہا جب وزیر اعظم راجا فاروق حیدر کو اس بالا دست طبقہ کی طرف سے فٹ بال بنایا گیا تھا۔ سب آن دی ریکارڈ تھا اور ہے۔

تہتر سالوں ایسا کیوں ہو رہا ہے یا کیاجا رہا ہے تو اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جب 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی آزاد بااختیار، خودمختار متحدہ ریاست کو اسی ملک اور انگریزوں کے منصوبے سے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے تقسیم کروایا،

تو یہ ایک ناجائز خطہ جو اڑھائی اضلاع پر مبنی تھا مرض وجود میں لایا گیا۔ لہذا ضروری تھا کہ اس خطہ لوگوں کو لمبے عرصے کے لیے بیوقوف بنا کر ذہنی غلام بنایا رکھا رہے۔جس کے لیے اس کا نام ہی آزاد جموں و کشمیر رکھ دیا گیا۔ اور اس پتلے پر الگ صدر، وزیراعظم و اسمبلی کا خارش زدہ لباس پہنایا گیا اور رہی کسر پتلے کے ہاتھ میں متنازعہ جھنڈا بھی تھما کر پوری کر دی۔

اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے، بھارت کے بیانے کو کمزور کرنے کے لیے اور بطور ڈھال یہاں اپنی اپنی فرنچائز کھول دیں اور یہاں کے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اور یہاں کے جس طبقہ نے اس حکمران، قابض غاصب طبقہ اور حملوں آوروں کی مدد کی،سہولت کاری کی تھی اور ریاست سے غداری و وطن فروشی کے مرتکب ہوئے،تھے ان کو مراعات سے نوازے کے لیے عالمی اقوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اپنے اپنے آلہ کار بنائے جنہیں لولے لنگڑے اور اندھے معزور و مجبور ڈھانچے پتلے کی آنکھ و ناک بنا دیا۔ جو تہتر سالوں سے انہی کی تابع شرائط سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

مزکورہ بالا حقائق کے پیش نظر جو تصویر وائرل ہو رہی ہے۔

اس میں پاکستان اسلام آباد میں آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم سردار تنویر الیاس صاحب ہیں جن کی گود میں سابق وزیر امور جموں و کشمیر علی امین گنڈاپور سر رکھے ، اطراف میں ٹانگیں پھیلائے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتے دیکھائی دے رہے ہیں یہ تصویر پورے آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے رشتے، احساس، سفارت کار اور مذہبی بھائی کی بہترین عکاس ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں