درجنوں ہلکاروں کی ہلاکت بعد جنرل باجوہ فوجیوں کو حوصلہ دینے بلوچستان پہنچ گئے

0
125

پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے اسٹیک ہولڈرمیڈیا ہاؤس”سنگر نیوز“کے مطابق بلوچستان میں ضلع کیچ کے علاقے دشت سبدان میں گذشتہ دنوں بلوچ آزادی پسند مسلح جنگجوؤں کے سامنے ہونے والے فوجی شکست کے بعد فوجیوں کا مورال بڑھانے اور انہیں حوصلہ دینے کیلئے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہفتے کی شام خفیہ دورہ تربت پر پہنچ گئے جس کی خفیہ خبرپہلے سے ”سنگر نیوز“نے خبر بریک کردی تھی۔

سنگر کے مطابق جنرل باجوہ کے دورے کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی، وہ چھپکے سے آئے اورجب وہ واپس راولپنڈی پہنچ گئے تب آئی ایس آر کی جانب سے اس کے دورے کی تصدیق کی گئی۔

بعض اندرونی ذرائعوں کا جنرل باجوہ کے خفیہ دورے کے حوالے سے کہنا ہے کہ جس طرح ماضی میں کوہلو میں جنرل مشرف کے دورے کے موقع پر راکٹ لانچرفائر ہوئے بالکل اسی خوف کے باعث اس دورے کوبھی خفیہ رکھا گیااورسیکورٹی کے انتظامات اس طرح سخت کئے گئے کہ کسی طرح کی کوئی لیکیج نہ ہوسکے۔

جنرل باجوہ نے دورہ تربت کے موقع پردشت سبدان جاکر اس فوجی کیمپ کا معائنہ کیا جسے ایک فوجی کارروائی کے دوران بلوچستان کی سب سے متحرک آزادی پسند تنظیم بی ایل ایف نے قبضہ کیا تھا اور اس اہم معرکے میں قومی فوج کا ایک سپاہی ممتاز عرف بالاچ وطن کی دفاع میں جام شہادت پاگئے تھے جبکہ دشمن فوج کے 17 اہلکار ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے اور چار اہلکار لاپتہ ہو گئے تھے جو ابھی تک لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔

بعد ازاں پاکستانی فوج کے سربراہ نے ایف سی ساؤتھ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک اعلی سطحی فوجی اجلاس کی صدارت کی جس میں سبدان واقعہ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سنگر نیوز کے مطابق اجلاس میں ایک وسیع فوجی آپریشن کی منظوری دی گئی، خصوصاً ضلع کیچ کے پہاڑی علاقوں میں زمینی و فضائی آپریشن کا فوری حکم دیا گیا۔

سنگر کے باوثوق ذرائع کے مطابق اجلاس میں خواتین فوجی اہلکاروں کے ذریعے بلوچ عورتوں کی آئندہ چیکنگ اور تلاشی سمیت ان کی گرفتاری اور لاپتہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ رائے سامنے لائی گئی کہ بلوچ عورتیں بھی عسکری کارروائی کے لیے کردار ادا کررہی ہیں جن میں شہروں میں اسلحہ لانا اور دیگر عسکری کمک شامل ہیں۔

پاکستان آرمی کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے دورہ تربت میں فوجیوں سے مل کر ان کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی تاکہ ان کا مورال بلند رہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے حالیہ اہم فوجی کارروائی اور اس سے قبل دسمبر سے جنوری تک پاکستان آرمی کے تین سرحدی کیمپ پر بلوچ سرمچاروں نے قبضہ کیا اور وہاں تعینات تمام اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

بی ایل ایف کے حالیہ فوجی کامیاب کارروائی کے بعد دشت، مند، زامران اور تمپ میں ایف سی اور آرمی کے بیشتر کیمپ اور چوکیاں خالی کرکے فوجی اہلکار بھاگ گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق جنرل قمر باجوہ کے دورہ کا مقصد اپنے فوجیوں کا مورال بلند کرنا تھا جو پہاڑی اور دیہی علاقوں میں ڈیوٹی دینے سے انکاری ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر نے آرمی چیف جنرل باجوہ کے کیچ کا دورے کی تصدیق کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تربت کا دورہ کیا۔اور پورا دن فوجی جوانوں کے ساتھ گزارا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دورہ تربت میں آرمی چیف کو ایف سی ہیڈ کوارٹر بلوچستان ساؤتھ میں سکیورٹی صورتحال پربریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کو پاک ایران سرحد پرباڑکی تعمیر پر بھی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

لیکن دوسری طرف بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسز اہلکاروں نے آرمی چیف سے دوران ملاقات چیک پوسٹیں ختم کرنے کی استدعا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مردو خواتین فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سبدان ٹاپ کے شہدا کے عزم اور حوصلے کو خراج تحسین کیا اور کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردوں کوکیفرکردارتک پہنچایا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں