پاکستانی فوج کی غنڈہ گردی اور غلط رویے کیخلاف بلوچستان میں احتجاج و پنچایت کا انعقاد

0
63

پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں پاکستانی فوج کی غنڈہ گردی، گھروں میں گھسنا،لوگوں کو لاپتہ کرنا،خواتین پر دست درازی کرنااوربلاوجہ لوگوں کو ہراساں کرنے اوران کی تذلیل کرنے کیخلاف عوام نے احتجاجاً روڈ بلاک کیا اور پنچایت لگائی۔

سی پیک کے مرکزی شہر گوادر میں منگل کی شب میرین ڈرائیور سید ہاشمی یادگار چوک پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے رویے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے۔

شہریوں کے مطابق اسنیپ چیکنگ کے نام پر راہ چلتے لوگوں کو روک کر چیکنگ شروع کردی گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

شہریوں اور اہلکاروں کے درمیان گہماگہمی کے بعد حق دو تحریک کے کارکن موقع پر پہنچ گئے اور میرین ڈرائیو پر احتجاجاً ٹریفک کی روانی معطل کر دی۔

آخری اطلاعات تک میرین ڈرائیو کے مقام پر احتجاج جاری ہے اور لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

شہریوں کے مطابق گوادر شہر میں کئی سیکورٹی فورسز جگہ جگہ اسنیپ چیکنگ کے نام پر لوگوں کی تذلیل کرتے ہیں۔

گوادر میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی رویے کیخلاف لوگون نے احتجاجاً سی پیک روڈ بلاک کیا ہوا ہے ،۔

شہریوں نے کہا کہ پولیس، ایف سی سمیت کسی بھی ادارے کو یہ حق نہیں کہ وہ معزز شہریوں کو راہ چلتے روک کر پریشان کریں۔

اسی طرح بلوچستان کے ضلع آواران کے تحصیل جھاؤ میں عوامی شکایت پر لوگوں کو بلاوجہ تنگ کرنے اور غنڈہ گردی کے وارداتوں پر پاکستانی فورسز کیخلاف پنچایت بٹھائی گئی۔

عوامی پنچایت میں ڈپٹی کمشنر آواران جمیل احمد اور فرنٹیر کور آواران کے بریگیڈیئر شمریز کو پیش کیا گیا۔

ضلعی آفیسران سمیت علاقائی عمائدین بھی پنچایت میں موجود تھے۔

پنچایت کا انعقاد کرنے کا مقصد حالیہ دنوں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے بلاوجہ لوگوں کوگھروں سے ہراساں کرنا، جبراً اپنے چوکیوں پر بلانا، تشدد کے بعد لاپتہ کرنا، علاقے کے باعزت لوگوں کے گھروں میں رات کی تاریکی میں حملہ کرنا اور علاقے کے لوگوں کو بلوچ سرمچاروں کی مالی مدد کے بہانے میں ڈرانے دھمکانے اور غنڈہ گردی کی ردعمل میں ہوا۔

گزشتہ روز علاقہ معتبرین کی بڑی تعداد نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)کی سرکردہ شخصیت عبدالحمید شاہین کے ہاں اپنی فریاد پہنچائی اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سے بذریعہ ٹیلیفونک بات چیت کرکے علاقے میں جاری فوجی جارحیت اور فورسز کی غنڈہ گردی کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

علاقہ معتبرین نے قدوس بزنجو کوفورسز کی جانب سے علاقے چھوڑنے کی دھمکی اور لوگوں کی جان ومال اور عزت آبرو پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے فورسز کو علاقے سے واپس اپنے بیرکوں میں بھیجنے کی اپیل کی۔

منعقدہ جرگے ایک علاقائی معتبر نے کہا کہ ہمیں کسی قسم کاخطرہ نہیں ہے اسی لئے ہمیں کوئی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے اور ہم صدیوں سے اپنے سرزمین پر آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر ہماری عزت و آبرو لوٹنے اور گھروں کی تقدس کو پامال کرنے کا یہ سلسلہ اب بندہونا چاہیے۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج نے بنگلہ دیش طرز کی اپنی حکمت عملی اپنائی ہے جہاں انہوں نے لاکھوں افراد کو بے رحمی سے قتل کیا اورخواتین کی عصمت دری کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں