پاکستان کی عدلیہ اور پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہیں ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

0
66

بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان میں کرپشن کا پیمانہ جانچنے کے لیے کرائے گئے سروے کے مطابق پاکستان عوام کی اکثریت پولیس اور عدلیہ کو کرپٹ ترین ادارے سمجھتی ہے۔

سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت یعنی 85.6 فی صد شہری وفاقی حکومت کی خود احتسابی سے متعلق پالیسی سے مطمئن نہیں ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اب بھی یہ مانتی ہے کہ سرکاری شعبے میں بدعنوانی زیادہ ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری سروے کے نتائج کے مطابق ٹینڈرز اور ٹھیکے دینے کا شعبہ تیسرا اور صحت چوتھا کرپٹ ترین شعبہ ہے۔ اسی طرح لینڈ ایڈمنسٹریشن پانچویں، لوکل گورنمنٹ چھٹے، تعلیم ساتویں، ٹیکسیشن آٹھویں اور این جی اوز بدعنوانی میں نویں نمبر پر ہیں۔

سروے کے مطابق پولیس میں 41.4 جب کہ عدلیہ میں 17.4، ٹھیکوں اور ٹینڈرز میں 10.3 فی صد کرپشن ہے اور عوام کے مطابق یہ تینوں ادارے سب سے زیادہ کرپٹ ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں 59.8 فی صد، صفائی اور کچرا جمع کرنے کے ٹھیکوں میں 13.8 فی صد، پانی کی فراہمی میں 13.3 فی صد اور ڈرینج سسٹم کے شعبے میں 13.1 فی صد کرپشن ہوتی ہے اور پبلک سروس کے اہم ترین شعبہ جات میں عوام کو سہولتیں حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے۔

سروے میں 51.9 فی صد عوام کے مطابق ملک میں بدعنوانی کی اہم ترین وجوہات کمزور احتساب، 29.3 فی صد کے مطابق طاقت ور لوگوں کا لالچ اور 18.8 فی صد کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ کم تنخواہیں ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی وائس چیئرپرسن جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کہتی ہیں کہ یہ امر زیادہ تشویش ناک ہے کہ عوام کے ساتھ براہ راست تعلق رکھنے والے اور خدمات دینے والے ادارے بدعنوانی کی درجہ بندی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس امن و امان اور عدلیہ داد رسی کے لیے ہیں اور ان اداروں کو بدعنوانی کی درجہ بندی میں پہلے اور دوسرے درجے پر آنا زیادہ پریشان کن امر ہے۔

ناصرہ اقبال کہتی ہیں کہ عدالیہ کے بارے میں پہلے بدعنوانی کا تاثر بہت زیادہ نہیں تھا لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ اس کی وجہ عدلیہ کے بارے میں ایک منظم مہم کا چلایا جانا بھی ہو سکتا ہے جو کہ سیاسی مقاصد کے لیے چلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کی رپورٹ کا مقصد بدعنوانی کے خلاف شعور کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ شعور سے بیداری پیدا ہوتی ہے اور اصلاح کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عوام کا عام تاثر یہی ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ کرونا وائرس کے سبب بے روزگاری میں اضافہ ہے اور بے روزگاری بڑھنے سے بدعنوانی میں اضافے کے امکانات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں شعور اُجاگر کیا جائے جو کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہو سکے گا اور نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد 72.8 فی صد کی رائے ہے کہ مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے نچلی سطح پر پبلک سیکٹر کی کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

شہریوں کی اکثریت 81.4 فی صد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے رشوت نہیں دیتے بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں سستی یا تاخیر جیسے حربوں کے ذریعے عوام سے رشوت لی جاتی ہے۔

تین حالیہ وفاقی حکومتوں کے موازنے کے لحاظ سے 92.9 فی صد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں مہنگائی اپنی بلند ترین شرح پر پہنچ چکی ہے۔ جب کہ (ن) لیگ کے دور (2013 تا 2018) میں یہ 4.6 فی صد جب کہ پیپلز پارٹی کے دور (2008 تا 2013) میں یہ صرف 2.5 فی صد تھی۔

اس کے ساتھ ہی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد 85.9 فی صد کی رائے ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ان کی آمدنی سکڑ کر کم ہو گئی ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے لیے شہری جن اہم وجوہات کو ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ ہیں اس میں حکومت کی نا اہلی (50.6 فی صد)، کرپشن (23.3 فی صد)، سرکاری معاملات میں سیاست دانوں کی غیر ضروری مداخلت (9.6 فی صد) اور پالیسیوں پر عمل درآمد میں ناکامی (16.6 فی صد) ہے۔

پاکستانیوں کی اکثریت (66.8 فی صد) کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کی احتساب کی مہم جانب دارانہ ہے۔

بدعنوانی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں 40.1 فی صد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں سخت سزائیں دی جائیں۔ 34.6 فی صد نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے کرپشن کیسز کو بہتر انداز میں نمٹنے کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران کا احتساب کیا جائے، 25.3 فی صد نے کہا ہے کہ کرپشن میں سزا پانے والوں کو عوامی عہدوں سے ہمیشہ کے لیے نا اہل کر دیا جائے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے چاروں صوبوں میں یہ سروے 14 اکتوبر 2021 سے 27 اکتوبر 2021 تک کیا تھا۔ یہ سروے، ماہرین کے مطابق، گورننس کے بہت اہم مسائل پر عام لوگوں کے تاثرات کی عکاسی کرتا ہے جس میں عوام نے گورننس سے جڑے اہم ترین معاملات پر اپنی رائے پیش کی ہے۔

حکومت کی جانب سے تاحال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں