مقبوضہ بلوچستان:ودود ساتکزھی، نصیب اللہ بادینی، زبیر زھری اور عدنان مینگل کے لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

0
78

مقبوضہ بلوچستان کے علاقے نوشکے سے جبری لاپتہ نصیب اللہ بادینی اور ودود ساتکزھی کے لواحقین نے ان کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں 4 نومبر 2021 کو ھب سے جبری لاپتہ ہونے دو نوجوان زبیر زھری اور عدنان مینگل کے لواحقین نے بھی حصہ لیا۔ 

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے ان کے پیاروں کو منظر عام پر لایا جائے۔ 

ودود ساتکزھی کی بہن گل زادی بلوچ نے شال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا میرے 19سالہ ودود ساتکزھی کو 12اگست 2021کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد ان کے حوالے سے ہمیں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ۔انھیں ان کے دوست نثار ولد اسماعیل شاہ گھر سے بلاکر اپنے ہمراہ لے گیا عینی شاہدین کے مطابق سیاہ شیشے والی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔نثار نے باتو ں باتوں میں میرے بھائی کو ان تک پہنچایا جب وہ نزدیک پہنچے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے میرے بھائی کے منہ پر کپڑا ڈالا اور گاڑی میں پھینک کر اپنے ہمراہ لے گئے۔

انھوں نے کہا اس وقت پورے بلوچستان میں ایک خوف کا ماحول ہے عینی شاہدین گواہی دینے سے خوف کا شکار ہیں میرا بھائی ایک طالبع لم ہے وہ فارغ وقت میں اپنے بھائی کے ساتھ کوئلہ کان میں مزدوری کا کام کرتا ہے اور مغرب کے وقت وہ اگھر آتا تھا مذکورہ شخص نے دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے تحت ودود ساتکزھی کو جبری طور پر لاپتہ کروایا ہے۔

 گل زادی نے کہا بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں ہر تیسرا گھر اس ماروائے قانون عمل سے متاثر ہے کسی بھی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کرنا عالمی انسانی حقوق کے تحت ایک جرم ہے۔میں انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرا پورا خاندان کرب و اذیت میں مبتلا ہے۔میرا بھائی ودود ساتکزھی کو باحفاظت منظر عام پر لایاجائے۔

انھوں نے کہا کسی بھی شخص کے لاپتہ ہونے سے نہ صرف وہ شخص متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ پورا خاندان کرب و اذیت میں مبتلا ہوتا ہے میرے بھائی کی جبری گمشدگی سے ہمارا پور ا گھر متاثر ہوچکا ہے۔ہم اس کی بحفاظت بازیابی کے منتظر ہیں اس حوالے سے ہم مسلسل لاپتہ افراد کے لیے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں جبکہ حکام بالا سے ودود ساتکزھی کے بازیابی کے خلاف اقدامات اٹھانے کی اپیل کرچکے ہیں لیکن تاحال ہمیں انصاف نہیں مل سکا ہے

’’ ہم ایک بار پھر حکام بالا، علاقائی وعالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ودود ساتکزھی سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرح ہم بھی یہ مطالبہ دہرانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کو ملکی قوانین کے تحت عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں