مقبوضہ بلوچستان: پاکستانی فورسز نے بلوچ خاتون کو قتل کردیا،عوام سراپا احتجاج

0
131

مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی شہید تاج بی بی کے بھائی نے ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان کے موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہماری گاڑی پر پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے ہی فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں میری بہن جابحق ہوئی۔

انھوں نے کہا ایف سی کا چیک پوسٹ اگر تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن انھوں نے اپنے چیک پوسٹ سے آگے کمین لگایا تھا، ان کی دو گاڑیاں وہاں پر کھڑی تھیں۔ میں کسی اور کے خلاف نہیں ایف سی کے خلاف ایف آئی آر کراؤں گا۔ہم پر حملہ آوروں اور ملوث اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔

بدھ کے روز ڈپٹی کمشنر کیچ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، سول سوسائٹی اور لواحقین نے ملاقات کی اس ملاقات کے بعد ان کے بھائی اور علاقے کے سیاسی شخصیت بی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات صادق تاجر نے پریس بریفنگ دی۔صادق تاجر نے بھی شہید تاج بی بی کے بھائی کے موقف کی تائید کی کہ اس علاقے میں فورسز کی بڑی تعداد موجود ہے اور تمام شواہد کے ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا آسکانی بازار آپسر میں بلوچستان کے موجودہ حالات اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے تنگ آکر کیچ کے مضافاتی علاقوں، پنجگور اور آواران سے 35 سے 40 ہزار لوگ ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے ہیں۔ وہ شہری زندگی سے نابلد ہیں، ان کے شہر میں روابط ابھی استوار نہیں ہوئے ہیں۔وہ مزدوری کرتے ہیں، کسی ایک کا ذاتی پلاٹ بھی ہوگا۔ کچھ لوگ دوسری کی زمینوں پر رہائش پذیر ہیں۔ ان لوگوں کو جو پہلے سے حالات کے مارے ہیں مزید تنگ نہ کیا جائے اور ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

شہید تاج بی بی زوجہ موسی کے بھائی نے پریس کانفرنس میں واقعے کی جزئیات کے ساتھ تفصیلات بیان کیں اور انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

انھوں نے کہا ہم آسکانی بازار سے صبح آٹھ بجے نکلے۔اس راستے میں تمام ریاستی فورسز کی چوکیاں اور چیک پوسٹس ہیں، پولیس ہے، لیویز ہے۔ ہماری گاڑی کسی ویرانے سے نہیں نکلی تھی کہ جسے مشکوک سمجھ کر ٹارگٹ کیا جاتا۔ زمباد گاڑی تھی کوئی موٹر سائیکل نہیں تھی کہ جسے فرار ہونے کی کوشش میں نشانہ بنایا گیا ہو، ایک خاتون کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

ان کے مطابق ایک گولی میری بہن کے ماتھے پر ماری گئی جو پیچھے سے نکل گئی اس کے بعد دو اور گولیاں بھی خواتین پر چلائی گئیں جنھوں نے گاڑی کی آڑھ لے کر خود کو بچایا۔خواتین کے مطابق انھیں چیک پوسٹ نظر نہیں آیا لیکن انھوں نے ایف سی کی دو گاڑیاں وہاں دیکھی تھیں۔

انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں ڈپٹی کمشنر کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ چیک پوسٹ تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور پاکستان کے کسی بھی فورس کے پاس ایسی کوئی بندوق نہیں جو اس فاصلے پر مار سکے۔

یہاں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے آپسر میں پہلے بھی حیات بلوچ کو شہید کیا گیا۔یہاں پاکستانی فوج کا مرکزی کیمپ قائم ہے جہاں سے ہر دو منٹ کے بعد فوج کی گاڑیاں برق رفتاری سے چلتی ہیں۔

اس واقعے کے خلاف تربت میں آل پارٹیز نے احتجاجی مظاہرہ کیا

واضح رہے کہ ایف سی پاکستان کی ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو بلوچ اور پشتونوں کے خلاف بنائی گئی ہے۔ نوآبادیاتی مفادات کے لیے مقامی لوگوں کے خلاف باقاعدہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے کے لیے برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے 1907 کو فرنٹیئرکورپس بنایا تھا۔اس کا مقصد سول آبادی کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی راہ ہموار کرنا تھا تاکہ ریگولر آرمی کی ساکھ کو بچایا جاسکے۔

پاکستان میں ایف سی اب بھی صرف بلوچ اور پشتونوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے جس کے سربراہ کے لیے یہ ضروری شرط ہے کہ وہ باقاعدہ پاکستانی فوج کے کم از کم میجر رینک کا کوئی افسر ہو۔

بلوچ قوم دوستوں جماعتوں کا موقف ہے کہ ایف سی اور فوج دو مختلف ادارے نہیں۔ فوج شاید ایف سی کا ماسک پہن کر بلوچستان میں اپنے جرائم کو چھپانا چاہتی ہے لیکن ہم ایف سی کی بجائے پاکستانی فوج ہی کہیں گے جو واضح تر ہے۔

تربت میں فرنٹیئر کورپس (ایف سی)کے ہاتھوں قتل ہونے والی شہید تاج بی بی کے قتل کے خلاف آل پارٹیز کیچ اور تربت سول سوسائٹی کی طرف سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت آل پارٹیز کیچ کے کنونیئر مشکور انور ایڈوکیٹ اور تربت سول سوسائٹی کے کنونیئر گلزار دوست نے کی۔

مقررین نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں کیا جاچکا حالانکہ فیملی نشاندہی کرچکی ہے کہ فائرنگ ایف سی اہلکاروں نے کی ہے۔انھوں نے کہا کہ فورسز کا کردار بلوچستان میں سیکیورٹی کی فراہمی کے بجائے عوام کو دہشت زدہ کرنا رہ گیا ہے، آپسر ہی میں طالب علم حیات بلوچ کو گولی مار کر شھید کردیا گیا ایک سال کے بعد وہی روش پھر دہرا کر تاج بی بی کو شھید کیا گیا۔یہ رویہ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو کسی طور قبول نہیں ہے۔

مظاہرے میں جسٹس فارشہید شاہینہ شاہین کمیٹی کی کنونیئر معصومہ رفیق نے کہا کہ جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی نہتی خاتون تاج بی بی بلوچ کے قتل کی مذمت کرتی ہے اور فیملی سے اظہارافسوس اور یکجہتی کرتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں