افغانستان پر بغیر مزاحمت کے طالبان کا قبضہ، اصل گیم کیا ہے؟ – نیوز انٹرونشن خصوصی اسٹوری

0
312

کیا یہ ممکن ہے کہ امریکی فوج کی تربیت یافتہ، جدید ہتھیارو ٹیکنالوجی اور فضائی کمک سے لیس 3 لاکھ کی افغان آرمی صرف9دنوں میں طالبان جیسی پچاس سے اسی ہزار کے جنگجوؤں کے سامنے سرنڈر کردے؟جنہیں نہ کسی جدید ہتھیار میسر تھے اور نہ ہی فضائیہ کی کمک حاصل تھی، صرف زمینی راستے کابل پر بلا کسی مزاحمت کے قابض ہوگئے…!!

اور یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت ہوگیاجس کا آغاز اکتوبر 2010میں ہوا تھاجب طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادرمذاکرات کیلئے کراچی پہنچے جہاں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا دیاتھا۔

افغانستان میں موجودامریکی افواج کودس سال قبل ملک کی جغرافیائی، سیاسی، انتظامی وعسکری معاملات چلانے کے دوران اس خدشے کا احساس ہوگیا تھا کہ پاکستان،چین،ایران اور روس مسلم مذہبی شدت نظریات کی حمایت کے آڑ میں خطے میں اپنی اثرو رسوخ بڑھاکر اپنی اقتصادی و عسکری طاقت بڑھاناچاہ رہے ہیں۔ جس سے وہ پوری دنیا کی ڈوریں اپنے شکنجے میں کھسنے کی مکمل تیاری میں ہیں۔ایران و پاکستان کی مذہبی شدت پسندانہ نظرایات کی افغانستان میں تیزی سے پھیلاؤاورخاص کر چین کی خطے میں دلچسپی اور ہمسایہ ملک پاکستان سے قربت اور بھاری سرمایہ کاری سمیت پیپلز لبریشن آرمی کی پاکستان میں موجودگی جیسے انٹیلی جنس رپورٹوں نے امریکی قیادت کو ایک مخمصے میں ڈال دیاتھا۔

چونکہ افغانستان امریکی و اتحادی افواج کے زیر کنٹرول تھا اوروہاں طالبان، القاعدہ و داعش ایسے دہشتگردوں کی مکمل سرکوبی کی جارہی تھی۔لیکن اس کے باوجود بھی طالبان کی طاقت میں نمایاں کمی اسی لئے نہیں آرہی تھی کیونکہ افغانستان سے باہربلوچستان اورپاکستان کے سرحدی علاقوں میں نہ صرف ان کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں بلکہ ان کی نرسری کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اور یہ سب پاکستان آرمی کی زیر نگرانی میں ہو رہاتھا۔اسی طرح ایران بھی طالبان کو پناہ دیئے ہوئے تھا۔

نائن الیون حملے کے بعد2001میں جب امریکا نے افغانستان پرحملہ کرکے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کردیا تو امریکانے وہاں حکومتی امور چلانے کیلئے مذہبی شدت پسندانہ خیالات سے مبراایک لبرل مقامی حکومت تشکیل دی تاکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی،انصاف و امن اور انسانی حقوق کی حکمرانی ہو۔جب حامد کرزئی کی قیادت میں دس سالوں تک عوامی حکومت سے ملک میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ دیکھنے اور طالبان کوجڑ ھ سے ختم کرنے میں ناکامی سمیت فوجیوں کی اموات میں اضافے پر امریکا نے دلبرداشتہ ہوکر2010میں افغانستان سے انخلا کے کیلئے اداروں میں بحث کا آغاز کردیا۔

افغانستان کی پیچیدہ صورتحال پر2010 میں امریکاکی سیاسی وعسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کرینگے اورانہیں شراکت اقتدار کیلئے قائل کرینگے۔اسی لئے طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادرمذاکرات کیلئے کراچی پہنچے جہاں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا دیاتھااور پھر امریکا اور طالبان مابین مذاکرات اور امریکی فوج کی انخلا کا پروگرام رک گیا۔ لیکن اندرون خانہ طالبان اور امریکاکے درمیان رابطے جاری رہے۔

حامد کرزئی اور اشرف غنی کی قیادت میں ایک عوامی حکومت بیس سالوں تک افغانستان پر برسر اقتدار رہی۔لیکن عدم حب الوطنی اوربے تہاشاکرپشن و اقرباپروری کی وجہ سے مذکورہ حکومتیں امریکا کی معیار پر پورانہ اتر سکیں اور اس کا جو اعتماد تھا وہ ختم ہوگیا۔

امریکا نے ایک اندازے کے مطابق افغانستان کی تعمیر ِنو اورطالبان سے جنگ لڑنے سمیت افغان اافواج کی تربیت، گورنس اور انفرانسٹرکچر کیلئے ایک کھرب کے قریب ڈالر خرچ کئے۔لیکن 2001سے لیکر2018تک جب طالبان کی مسلسل حملوں اور چین کے خطے میں بڑھتی ہوئی اثرو رسوخ، پیپلز لبریشن آرمی کی موجودگی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے پیش نظر امریکا اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ عمر بھر اپنی افواج کو اس خطے میں نہیں رکھ سکتاکیونکہ بھاری عسکری اخراجات اور پھر امریکی عوام کی جانب سے فوجیوں کی اموات پر احتجاج ریاست کیلئے نیک شگون نہیں تو کیوں نہ ایک ایسے منصوبے کو حتمی شکل دیا جائے جس سے امریکی مفادات کومکمل طور پر تحفظ مل سکے اورچین کی خطے میں اثرو رسوخ مکمل طور پرختم ہوجائے۔

اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے امریکا نے طالبان کو مذاکرات کا پیغام بھیجااورافغانستان سے اپنی فوجی انخلاکوافغانستان میں چین، پاکستان، ایران اور روس کے اثرورسوخ کے خاتمے اور القاعدہ، داعش و دیگر مذہبی شدت پسند نظریات رکھنے والے گروہوں اور تنظیموں سے امریکی مفادات کوتحفظ اوریقین دہانی سے مشروط رکھا۔

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آنے کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کیاجاتاہے۔جس کیلئے امریکا نے افغان سفارت کاراور امریکی سفیر برائے مفاہمت زلمے خلیل زاد کوافغان طالبان سے مذاکرات کیلئے ذمہ داریاں سونپ دیں اور پھر 2018میں افغان امن مذاکرات کے نام سے یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوگیا جب امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ اس کے قید میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کورہا کیا جائے۔

طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادرکو اکتوبر 2018میں پاکستانی جیل سے رہائی کے بعد فوری طور پر قطرکے دارلحکومت دوحہ پہنچایا جاتا ہے جہاں طالبان کیلئے باقاعدہ ایک سیاسی دفتر قائم کیاجاتاہے اور پھر طالبان کے امیر مولوی ہیبت اللہ اخوندادنے ملا عبدالغنی برادر کو سیاسی امور کا نائب منتخب کرلیتاہے جہاں امریکا کی افغانستان سے فوری انخلا، امریکی مفادات اور افغانستان کی لبرل سیاسی قیادت کی مکمل تحفظ سمیت چین و روس کی سرمایہ کاری،سی پیک کا خاتمہ، ایران وپاکستان کی مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کی ضمانت پرامریکا اورطالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوجاتے ہیں جوآہستہ آہستہ تین سال کے بعد کامیاب ہوجاتے ہیں۔

یہ بات یہاں غور طلب ہے کہ جب امریکا و طالبان مابین باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوجاتا ہے تو افغانستان میں طالبان کی جانب سے امریکی و اتحادی افواج پر حملے رک جاتے ہیں۔اوریہ ریکارڈ پر ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں کسی بھی اتحادی فوج پر طالبان نے حملہ نہیں کیا تھا۔اس پر مستزاد طالبان جب کابل پرقبضہ کرنے آرہے تھے تو امریکی فوج نے انہیں روکنے کی کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کہ اور نہ ہی امریکی جنگی طیاروں نے ان راستہ روکا۔جب کہ یہی وہ جنگی طیارے تھے جنہوں نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں حملہ کرکے طالبان کی حکومت کا صفایا کردیا تھا۔

2018سے لیکر2021تک ان تین سالوں کے دوران امریکا او طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں جب طالبان کی جانب سے امریکی افواج پر حملے نہ ہونے،افغان سرزمین کو کسی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے،افغانستان کی موجودہ لبرل سیاسی قیادت سمیت لوگوں کی بنیادی وانسانی حقوق کو تحفظ دینے،چین کی اثر رسوخ کا خاتمہ اور سی پیک کام کو سبوتاژ کرنے جیسے نقطے جو مذاکرات میں معاہدے کا حصہ تھے پر مکمل عمل درآمد اور ضمانت ملنے پر امریکا نے طالبان کو افغانستان پر قبضے کی اجازت دیدی۔

اگر ہم اس سوال کی کھوج کریں کہ طالبان ایک دم سے اتنی بڑی تعدادمیں کہاں سے وارد ہوگئے؟توہمیں اپنے سوال کا جواب مل جائے گا کہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی قوت کارفرمایا تھی۔ورنہ راتوں رات طالبان کیسے منظم ہوسکتے ہیں اور ایک عسکری قوت پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔یقینا یہ بات طے ہے کہ طالبان ایک دم سے وارد نہیں ہوئے بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان میں موجود تھے اور امریکی انٹیلی جنس ان کی نگرانی سمیت انہیں کم سے کم نقصان پہنچانے کے ایک خفیہ معاہدے پر عملدرآمد کررہا تھا۔تب جاکر طالبان ایک منظم صورت میں ابھر کر سامنے آگئے اور اس امریکی کھیل میں پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی ملوث تھا لیکن بعض باتیں طالبان اور امریکی قیادت میں طے ہوئی تھیں وہ پاکستان کے علم میں نہیں تھے۔

کہتے ہیں کہ جب امریکی فوج بگرام ایئرس بیس کو خالی کرکے راتوں رات چھپکے سے نکل گئی تو یہ بات نہ افغانستان کی حکومت کو معلوم تھی اور نہ ہی میڈیا کولیکن طالبان کو معلوم تھی کیونکہ امریکا نے طالبان کو پہلے سے اپنے جانے کی خبر کردی تھی۔اور جب امریکی فوج بگرام ایئر بیس سے نکل گئی تو فوری طور پر طالبان نے ایئر بیس پر قبضہ کرلیاکیونکہ طالبان پہلے سے ایئر بیس کے اطراف میں موجود تھا۔

افغانستان پربندوق کے زور پر طالبان کے قبضے کو پاکستان سمیت دنیا بھرکے دائیں بازو کے حلقوں میں شادیانے بج رہے ہیں۔بعض لوگ تو اس قبضے کو فتح مکہ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے توباقاعدہ طور پر اپنے ٹاؤٹ صحافیوں، سوشل میڈیا اکٹیوسٹ اوریوٹیوبرزکو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ طالبان کے قصیدے گائیں۔ تاکہ طالبان کے دلوں میں ان کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو سکے کیونکہ پاکستان آرمی نے مشرف حکومت کے دور میں متعدد طالبان رہنماؤں کو گرفتارکرکے امریکا کے حوالے کیا جنہیں گوانتاناموبے جیل میں بھیج دیا گیاتھا اور بعض کو اپنی جیلوں میں رکھا جبکہ طالبان دور حکومت کے ایک وزیر ملا ضعیف کو برہنہ کرکے امریکا حوالے کیا گیااور یہ سب باتیں طالبان کو یاد ہیں جس کا وہ کھبی بھی بدلہ لے سکتے ہیں اسی لئے پاکستانی جرنیل ان کی خوش نودی حاصل کرنے کیلئے ان کی تعریفیں کررہے ہیں اور ا ن کے قبضے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔

جبکہ پوری دنیا افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک بڑی غلطی قرار دے رہی ہے۔اور امریکا پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے کہ انہوں نے افغانستان کو طالبان کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔جس کے پوری دنیا پردہشتگردانہ اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔اس اقدام پر جو بائیڈن انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں ہے۔افغانستان میں جنگ لڑنے والے سابق امریکی فوجی اہلکار بھی جوبائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں کہ انہوں نے طالبان کیخلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ افغان عوام میں بھی طالبان کی خوف کے ساتھ ساتھ امریکا کیلئے شدید غم غصے کا اظہار پایاجاتا ہے کہ انہوں نے نہتے عوام کو دہشتگردوں کے ہاتھوں مرنے کیلئے بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے قبضے کوپاکستان،چین، ایران اور روس اپنی فتح قرار دے رہے ہیں اوردنیا میں سب سے زیادہ خوشی انہی ممالک کو ہے کیونکہ خطے میں انہی ممالک کے زیادہ مفادات وابستہ ہیں۔اور امریکانے چین، ایران، پاکستان اور روس سے بغضِ معاویہ کے مسداق 38ملین افغانیوں کواس اعتماد کے ساتھ طالبان کے ہاتھوں مرنے کیلئے چھوڑ دیاکہ وہ امریکی مفادات کا دفاع کرینگے۔

امریکا وطالبان مابین داعش، القاعدہ، چین،پاکستان، ایران اور روس کے حوالے سے جو شرائط طے ہوئے ہیں یہ ممکن نہیں ہے کہ طالبان ان کی پاسداری کرے۔کیونکہ طالبان حلقوں میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ امریکا بھروسے کا لاحق نہیں ہے۔اور امریکا پراسی عدم اعتماد کی ذہنیت کی وجہ سے یہ بالکل ممکن نہیں ہے کہ طالبان امریکا سے کئے گئے شرائط کی پاسداری کریں کیونکہ اب طالبان نے بھی مکروفریب سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔

طالبان اورافغان امورکے ماہرتجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو طالبان کے ہاتھوں دینے کے حوالے سے امریکا و طالبان مابین جو شرائط طے ہوئے ان کی کسی قسم کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ طالبان اس پر عمل درآمد کرینگے۔ کیونکہ طالبان امریکا پر وشواس نہیں رکھتے اوران کی قربتیں اور اعتماد چین، پاکستان، ایران اورروس کے ساتھ ہیں۔اور امریکا نے طالبان کے ساتھ جو ڈیل کیا ہے اس کو شاید یہ لگتا ہے کہ اس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔طالبا ن ایک بڑی سپر پاور ملک کو چیٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اور یہ خطہ سمیت پوری دنیا اب مذہبی شدت پسندی کی لپیٹ میں چلا چائے گااور امریکا کی اس بڑی غلطی کا خمیازہ دنیا بھگتے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں