پاکستان: رحیم یارخان میں مندر پرحملے کے پیچھے کون؟ نیوز انٹرونشن خصوصی اسٹوری

0
177

پاکستان کے شہر رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں گذشتہ دنوں بروزبدھ 4اگست کودرجنوں مذہبی شدت پسندوں نے ہندوؤں کی مندر پر حملہ کرکے مندر کی کھڑکیاں، دروازے توڑے، مقدس مورتیوں کی بے حرمتی کی اور اس گھناؤنے عمل کو فیس بک پر لائیو نشر بھی کیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں افراد ڈنڈوں، پتھروں اور اینٹوں کے ساتھ مندر کی کھڑکیوں، دروازوں اور وہاں موجود بھگوان کی مورتیوں کو بلا خوف و خطرتوڑ رہے ہیں۔

یہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا ہے وہاں ہندو برادری کے 80 مکانات اس مندر کے گرد ہی موجود ہیں۔اور علاقے میں اکثریتی آبادی مسلمانوں کی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جب مذہبی شدت پسندوں کی ہجوم مندر پر حملہ آور تھی، توڑپھوڑ کررہی تھی اور مقدس مورتیوں کی بے حرمتی کر رہی تھی تو پولیس وہاں موجود تھی لیکن وہ ان شدت پسندوں کوروکنے کے بجائے وہاں سے چلی گئی۔اورمندر کی توڑ پھوڑ کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب رینجرز علاقے میں پہنچ گئی اور صورتحال کو کنٹرول کرلیا لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

مذہبی شدت پسندوں کے اس حملے کی خوف سے مندر کے اردگرد واقع ہندوبرادری نے اپنے گھروں کے دروازے بند کرکے خود کو گھر وں میں بند کردیا جبکہ حملہ آوروں نے ان کے گھر اور دکانوں پر بھی حملہ کیا لیکن انہیں زیادہ نقصان اس لئے نہیں پہنچا کہ رینجرز اس وقت علاقے میں پہنچ گئی تھی اور ہجوم منتشر ہوگئی تھی۔

پاکستانی میڈیا میں وزیر اعظم عمران خان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس واقعہ کی سختی سے نوٹس لینے اوراس کیس کی تفتیش اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے سمیت پاکستان کی آئین اقلیتوں کو اپنے مذہبی مقامات پر عبادت کی آزادی اور ضمانت دیتا ہے جیسی خبریں اعتماد کے ساتھ چلائی جار ہی ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی اور اس طرح کے بیانات اور نوٹس لینے کی خبریں پاکستانی حکام کی جانب سے پاکستان کو عالمی دنیا میں اقلیتوں کے حقوق کا ضامن منوانے کا ایک پینترا ماناجاہے تاکہ وہ اس طرح کے واقعات کی مکمل پردہ پوشی اورملوث عناصرکا دفاع کرسکے۔

واضع رہے کہ مندر پر اس حملے کی وجہ ایک مقامی آٹھ سالہ ہندو لڑکے کی جانب سے ایک مدرسے کی مبینہ بے حرمتی اور توہین مذہب قرار دیا جارہا ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش اورپاکستان ہندو فورم کے سربراہ اور قومی کمیشن برائے اقلیتی امور کے رکن ڈاکٹر جے پال چھابڑیا کے مطابق23 جولائی کو ایک آٹھ سالہ مقامی ہندو بچہ بھاویش کمار میگھواڑ غلطی سے کسی مسجد میں داخل ہو گیا، جہاں نائب امام حافظ ابراہیم نے اس کو ڈانٹا اور خوف کی وجہ سے اس بچے کا پیشاب نکل گیا۔اور یہ معاملہ اس وقت رفع دفع ہو گیا تھا لیکن 24 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں نامعلوم فرد کا نام ڈال دیا گیا۔ جب بچہ آٹھ سال کا تھا اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کا ذہنی توازن بھی صحیح نہیں تھاتو ایف آئی آر میں نامعلوم فرد کا نام کیوں ڈالا گیا۔“

جب کہ کچھ اور ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ مذکورہ آٹھ سالہ ہندو لڑکا جو ذہنی طور پر معذور تھا،نے مدرسے کے لائبریری میں نہیں بلکہ مدرسے کی ٹوائلٹ میں جاکرپیشاپ کیاتھا جسے وہاں کی مولوی اور مدرسے والوں نے پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کرکے الزام لگایا کہ بچے نے لائبریری میں آکر قالین پرپیشاب کیا تھالہذا بچے کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 24 تاریخ کو ہم نے آٹھ سالہ بچے کے خلاف 295 اے کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتارلیا تھا۔

چار اگست کو جب بچے کو عدالت میں پیش کیا گیا تو نابالغ اورذہنی طور پر معذور ہونے کہ وجہ سے عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کردیا۔

اے ایس آئی کے مطابق چونکہ بچہ نابالغ تھا اس لیے قانون کے مطابق 295 اے کی سخت سزا اسے دی نہیں جا سکتی تھی۔ مجسٹریٹ صاحب نے اسے ضمانت پر28 تاریخ کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ علاقے کے ایک بااثر شخصیت کے توسط سے بچے کے والدین نے مدرسے والوں سے معافی بھی مانگی تھی کہ بچہ ذہنی طور پر معذور ہے لیکن پھر بھی مدرسے والوں نے معاف نہیں کیا اور پھرمساجد میں اعلانات کرائے گئے، لوگوں کے مذہبی جذبات کوبڑھکایااور اشتعال دلایاکہ کس طرح ایک ہندو بچے نے ہماری مذہب اسلام کی توہین کی ہے۔

مساجد میں اعلانات کے بعددرجنوں افرادایک ہجوم کی شکل میں نکل گئے اورپہلے پہل رحیم یار خان میں سی پیک روڈ کوگھنٹوں تک بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اورپھر آکر مندر پر حملہ آور ہوئے۔وہاں توڑپھوڑ کی اور مقدس مورتیوں کی بے حرمتی کی، کئی املاک کو نذرآتش کیا۔

ڈاکٹر جے پال کے بقول بچے کی ضمانت پر رہائی کے بعدوہاں کے مقامی لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مندر پر حملہ کر دیا۔

ڈاکٹر رمیشں نے بتایا کہ’شام چار بجے سی پیک روڈ 25 کے قریب لوگوں نے بلاک کیا۔ میں نے ایڈیشنل آئی جی کو بتایا۔ ساڑھے چھ بجے انھوں کے مندر پر حملہ کیا تھا۔ گھروں میں جانے کی کوشش کی۔ پھررینجرز کو بلایا گیا۔ اور اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔‘

واضع رہے کہ مندر پر حملہ کرنے والوں کے چہرے ویڈیوز میں مکمل طور پرصاف نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی ابھی تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔بس حکام کی جانب سے نامعلوم حملہ آروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی خبریں چلائی جارہی ہیں۔

یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ جب جب اقلیتوں یا لبرل وسیکولر خیالات رکھنے والوں پر حملے ہوئے توکسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔اور پھر اس واقعہ کو جلد دبادیاجاتا ہے کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے پُر تشدد اورمذہبی شدت پسندانہ واقعات کے پیچھے کون ہے؟۔ جبکہ اس کے برخلاف عسکری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی چھوٹا سا واقعہ رونما ہوجائے تو گرفتاریاں اپنی جگہ بلکہ میڈیا میں ایسا سوشہ چلایا جاتا ہے کہ کس طرح سیکورٹی اداروں نے اپنی قابلیت پر اس کیس کو حل کردیا۔

پاکستان ہندو فورم کے سربراہ اور قومی کمیشن برائے اقلیتی امور کے رکن ڈاکٹر جے پال چھابڑیا کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان میں بسنے والے 150 سے 200 ہندو گھرانے انتہائی عدم تحفظ کا شکار ہیں ’کیوں کہ پولیس اسٹیشن سے مندر بمشکل پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے لیکن پولیس اس کو بھی بچانے کے لیے وقت پر نہیں پہنچی‘۔

مندر پر حملے اور اس میں توڑ پھوڑ کے بعد علاقے میں موجود بیشتر ہندو خاندانوں نے اپنے گھر بار چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔

اس سلسلے میں ممبر قومی اسمبلی اور پارلیمنٹری سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال ملحی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ بھونگ میں موجود بیشتر ہندو گھرانے ہنومن جی کے مندر میں حملے کے بعد خوف سے اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

لال ملحی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی پیچھے رہ جانے والی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بھونگ کے ایک رہائشی کے مطابق جب بدھ کے روز احتجاج شروع ہوا تو ہندو برادری کے لوگ خوف سے اپنے گھروں میں بند ہو گئے تھے۔اس کا کہناتھاحملہ آوروں نے ہماری دکانوں پر بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے وہاں تو کسی حد تک انھیں روک لیا تھا لیکن پولیس کچھ زیادہ نہیں کر سکتی تھی۔ یہ تو جب رینجرز آئی تو ہم نے کچھ سکون کا سانس کیا۔ ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں تھے۔

اس واقعہ کے بعد بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی وجہ سے بھونگ میں آباد ہندوبرادری کے زیادہ تر گھر خالی ہو گئے ہیں اور اپنے گھروں کو تالے لگا کر علاقے سے نکل گئے ہیں۔

اس واقعے کے خلافپاکستان بھر کی ہندو برادری آواز اٹھا رہی ہے اور حکومت سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پر نہ صرف غیر مسلم پاکستانیوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے بلکہ بہت سے ترقی پسند اور لبرل مسلمانوں نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوناک قرار دیا ہے۔

سندھ کے علاقہ ہالا کی ہندو پنچایت کے سربراہ رمیش لال کا کہنا ہے کہ پوری کمیونٹی اس واقعے پر غمزدہ ہے۔ انہوں نے بتایاکہ رحیم یار خان میں یہ ہندو کمیونٹی مقامی ہے اور کافی عرصے سے وہاں رہ رہی ہے لیکن وہاں جو مندر پر حملہ ہوا ہے اس پہ پورے پاکستان کی ہندو کمیونٹی غمزدہ ہے۔ پہلے کرک میں مندر پر حملہ ہوا اور اب رحیم یار خان میں یہ واقعہ پیش آیا۔ تواتر سے ہونے والے ان حملوں پر پوری کمیونٹی پریشان ہے۔

تھر سے تعلق رکھنے والی دلت سجاگ تحریک کی رہنما رادھا بھیل کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان کے واقعے کی وجہ سے پوری کمیونٹی میں بہت خوف ہے۔اوراس واقعے سے کمیونٹی میں احساس عدم تحفظ بہت بڑھ گیا ہے۔ میں رحیم یار خان سے اتنی دور بیٹھی ہوں اور مجھے یہ خوف ہے کہ میرے علاقے میں بھی کہیں ایسا کوئی واقعہ نہ ہو جائے۔ رحیم یار خان میں ہونے والا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے بھی پہلے ہمارے علاقے میں ایک ہندو لڑکے کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے ہی بھگوان کو برا بھلا کہے۔

رادھا بھیل کاکہناتھا ہندو کمیونٹی نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا اور اس مسلمان بندے کو معاف کر دیاتھالیکن اب یہ واقعہ ہو گیا ہے اور اگر حکومت نے ذمہ داروں کو گرفتار نہیں کیا اور ان کو سزا ئیں نہیں دیں تو اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

پاکستان میں اقلیتی برادری سمیت سیکوکر و لبرل خیالات رکھنے والے مذہبی شدت پسندوں سے مکمل طور پرغیر محفوظ ہیں۔اورہندو برادری کیخلا ف رحیم یارخان والا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کراچی میں نومبر 2020میں ایک مقامی ہندو آبادی اور ایک مندر پر مسلم شدت پسندوں نے حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اور خواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔

اسی طرح اپریل 2017 کو صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں چند شدت پسندوں نے ایک مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور تمامورتیاں توڑ کر گٹر میں پھینک دیں اور یہ حملہ تیسری بار ہوا تھا۔ گذشتہ مہینے جولائی میں صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں ایک چودہ سالہ ہندو لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی جس میں ایک مذہبی شدت پسند شخص ہندو لڑکے سے زبردستی اللہ اکبر اور بھگوان کو برا بھلا کہلوارہا تھا۔

ویڈیومیں مذکورہ شخص لڑکے کو گلے سے پکڑے ہوئے ہے اور اس کوکہہ رہا ہے ”بولو اللہ اکبر“۔۔۔۔اوردونوں ہاتھ جوڑے یہ بچہ”اللہ اکبر“ کہتا ہے اس کے بعد یہ شخص بچے کو کہتا ہے کہ ’اپنے بھگوان‘ کو برا بھلا کہو۔

اس کے بعد وہ شخص اس بچے کو گالی دیتا ہوا مزید برا بھلا کہتا ہے۔ پھر ویڈیو میں اس شخص کی شکل نظر آتی ہے جس کے پس منظر میں سفید رنگ کی ویگو گاڑی بھی نظر آ رہی ہے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں سفیدویگوگاڑی صرف خفیہ ادارے استعمال کرتے ہیں۔بلوچستان، خیبرپختونخوا اورسندھ سمیت پاکستان بھر میں جتنی بھی جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ان کے پیچھے یہی سفید رنگ کی ویگو گاڑی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھ رہا ہے۔ اور یہ مذہبی شدت پسندی اور اشتعال پھیلانے کے پیچھے یہی عسکری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ اسی مذہبی شدت پسندانہ نظریات کو استعمال کرکے نہ صرف پوری دنیا سے سیکورٹی کے مد میں فنڈ اکھٹا کرتا ہے بلکہ اپنی اقتدار کو بھی دوام دیتا ہے۔

اسی لئے کہتے ہیں کہ طالبان، داعش یا دیگر مذہبی شدت پسند گروہوں اور پاکستان آرمی میں کوئی فرق نہیں ہے۔پاک آرمی بس ایک ملک کی قومی فوج کے طور پر دنیا کو گمرا ہ کررہا ہے اور جبکہ اصل میں وہ ایک مذہبی شدت پسند اوردہشتگردفوج ہے جس کا اصل مقصد دنیا بھر میں مسلم شدت پسندی کو پھیلانا ہے اور دیگرمذہبوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں