گلگت بلتستان:پاکستانی فضائیہ کا عوام کی زمینوں پر قبضے،گرفتاریوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری

0
95

پاکستانی فضائیہ نے مقامی افراد کے زمینوں پر قبضے کو تیز کردیا،گزشتہ دنوں عوام نے ہوائی اڈے کے زمینوں کے قبضہ کے خلاف احتجاج کیا۔
گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں کو پابند سلاسل کرنے کا عمل دوبارہ تیز ہو چکا ہے۔

اسکردو ہوائی اڈے کے مقامی افراد نے بغیر کسی معاوضے کے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے زمینوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کیا، اور پی اے ایف مقامی لوگوں کی مزید اراضی پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ قوم پرست رہنما منظور پروانہ کو گرفتار کیا گیا۔ نیشنل ورکر فرنٹ نے حق پرستوں کی رہائی نہ ہونے پر کہا ہے کہ جلد احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔

اس دوران قوم پرست رہنما منظور پروانہ نے کہا کہ قانون کے مطابق زمینوں کی تین مختلف اقسام ہیں۔سرکاری زمین، ذاتی یا ملکیتی زمین اور عوامی زمین (شاملات)۔
سرکاری زمین کا پہلے سے ہی کاغذات مثل حقیت میں نشاندہی کی گئی ہے، ذاتی زمین وہ زمین ہے جو کسی فرد کی ذاتی زمین ہے، جو اسے وراثت میں ملی ہے یا کسی سے لین دین کی صورت میں، زمین کی تیسری قسم عوامی یا شاملات ہے، حکومت اس زمین کا مالک نہیں ہے بلکہ اس زمین کا مالک عوام ہیں، یہ زمین اجتماعی بھی ہو سکتی ہیں اور انفرادی بھی، جب یہ زمین کسی کی ملکیتی زمین سے متصل ہو یہ شاملات دیہہ کی اندرون لین ہو تو اس کا مالک وہ ہے جو اس پر قابض و متصرف ہے، جب یہ زمین کسی گاؤں کی اجتماعی ہو تو پورا گاؤں کا اس زمین پر حق ہے، جو کہ شاملات دیہہ کی بیرونی لین قسم ہے۔ سکردو گلگت روڈ سے متاثر ہونے والی عوامی زیر کاشت اور شاملات زمینوں کوخالصہ سرکار قرار دے کر معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان کی اعلٰی عدالتوں کو چائیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لوگوں کی شاملات دیہہ پر حکومتی اداروں کی جبری قبضے کو روکنے کے لئے اقدامات کریں اور جہاں جہاں قبضہ کیا گیا ہے لوگوں کو معاوضہ دلایا جائے۔
فرنٹ کے رہنماؤں ارشد جگنو، واجد جمعہ, بشارت مہدوی، نوید احمد و دیگر نے کہا ہے کہ پے در پے گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں کو پابند سلاسل کرنے کا عمل دوبارہ تیز ہو چکا ہے۔

نیشنل ورکرز فرنٹ گلگت بلتستان نے گزشتہ روز بلتستان سے تعلق رکھنے والے معروف حق پرست رہنماء اور گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چیئرمین انجینئر منظور پروانہ کی گرفتاری کو خطے میں جاری نوآبادیاتی جبر کی کڑی قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں