مقبوضہ بلوچستان: بلوچ مسنگ پرسنز ڈے پر احتجاجی ریلی اور مظاہرہ،فورسز کا مظاہرین پر تشدد

0
51

مقبوضہ بلوچستان کے راجدنی کوئٹہ میں منگل کی دوپہر کو“بلوچ مسنگ پرسنز ڈے”کی مناسبت سے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف علاقوں سے آکر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج کیا۔

کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسز کی ریلی کو پولیس نے کٹھ پتلی بلوچستان اسمبلی کی طرف جانے سے روک کر خواتین پر تشدد کیا پولیس تشدد سے ایک حاملہ خاتون کی حالت غیر ہوگئی۔جبری بلوچ لاپتہ افراد کے دن کی مناسبت سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔پولیس کی مداخلت اور تشدد کے باوجود شرکاء نے ریلی کو منظم رکھا اور سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دیا۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جبری لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی دین نے کہا ذاکر مجید کی ماں کے کہنے پر ہم نے فیصلہ کیا تھا ہم اسمبلی کے سامنے جا کر احتجاج کریں گے تاکہ ہماری آواز حکام تک پہنچ سکے لیکن پولیس نے ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، ہم پر تشدد کیا، دھکے مارے گئے۔انھوں نے کہا 12 سال شاید ہم ایک لمحے میں کہہ سکتے ہیں لیکن کیا آپ لوگوں کو اندازہ ہے کہ یہ 12 سال اس ماں نے کس اذیت اور کس کرب میں گزارے ہیں یا اس گھر کا ماحول کیسا ہے جہاں ہر لمحہ ایک درد اور ایک غیر یقینی کی کیفیت ہو کہ میرا بیٹا، میرا بھائی کہاں ہے؟کس حال میں ہے؟ میں اس کو زندوں میں شمار کرؤں یا مردوں میں شمار کرؤں۔

انھوں نے کہا جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاجی ریلی نکالی۔ہمارے مطالبات حکومت سے ہیں، ہم سالوں احتجاجی کیمپ میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن وہاں پہ سننے والا کوئی نہیں اس لیے ذاکرمجید کی والدہ کا یہی فیصلہ تھا کہ آج ہم اسمبلی کے سامنے جائیں گے جہاں شاید دو قدم کی دوری پر پریس کلب کے سامنے لوگوں کو ہماری آواز نہیں پہنچتی، شاید اسمبلی کے سامنے ہم اپنی چیخ و پکار اور درد کو ان کے کانوں تک پہنچا سکیں۔

بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی اپیل پر لاپتہ افراد کے دن کی مناسبت سے اس احتجاجی مظاہرے میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے اپنے لاپتہ پیاروں کی تصویریں اٹھا کر انکی بازیابی کا مطالبہ کیا۔8 جون کو بلوچستان میں لاپتہ افراد کا دن منایا جاتا ہے، اس دن بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابقہ وائس چئرمین زاکر مجید بلوچ کو بلوچستان کے ضلع مستونگ سے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا جو گذشتہ 12سالوں سے لاپتہ ہیں –اس ریلی اور مظاہرے میں لاپتہ طالب علم ذاکر مجید کی والدہ، ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ، شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ، راشد حسین کی والدہ اور دیگر سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین شریک تھی۔کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سے شروع ہونے والے ریلی میں شریک لوگوں لاپتہ افراد کی تصویریں اور مختلف پلے کارڈز اٹھا کر شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے ریڈ زون گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا۔

اس موقع پر ارد گرد سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد جمع تھی اور احتجاج کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو تشدد کا نشانہ بی بنایا۔

والدہ ذاکر مجید نے کہا کہ میرے بیٹے کو 12 سال قبل لاپتہ کیا گیا اور آج تک میں اپنے بیٹے کی راہ تکتے امیدوں کے سہارے زندہ ہوں۔ انہوں نے ریاست سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اگر ذاکر مجید مجید اور دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کیا گیا تو کراچی اور اسلام آباد میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرینگے-احتجاج میں شریک سینکڑوں لاپتہ افراد کی ماؤں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سالوں سے گمشدہ ہمارے بچوں کو گھروں میں بھیج کر انصاف فراہم کیا جائے۔

احتجاجی مظاہرے میں کوئٹہ شہر کے مضافات میں واقعہ نیو کاہان کے خواتین اور بچوں نے شرکت کی جنکے پیارے گذشتہ دس سالوں سے لاپتہ ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں