طالبان مزید طاقت حاصل کر لیں گے،حملوں میں تیزی آئے گی، رپورٹ

0
110

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی جنس کے نئے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہ سب کچھ طاقت سے حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جو کچھ وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم یعنی پابندیوں کا جائزہ لینے والی ٹیم نے جمعرات کو رپورٹ جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طالبان ابھی تک گزشتہ سال امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی، تکنیکی طور پر، تعمیل کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اختیارات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ وہ ملک کے نصف سے زیادہ ضلعی انتظامی مراکز پر براہ راست کنٹرول رکھے ہوئے ہیں اور شہری علاقوں سے باہر 70 فیصد علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ محض آغاز ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق:

”طالبان کے نعرے اور موسم گرما کے لڑائی کے سیزن کی تیاریوں کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ سال 2021 میں اپنا فوجی آپریشن بڑھا رہے ہیں، بھلے وہ حملوں کا اعلان کریں یا نہ کریں“

انٹیلی جنس رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان کمانڈروں نے اہم شہروں کے نزدیک اپنی فورسز کو بڑھا دیا ہے اور وہ مستقبل میں اس وقت اپنے عسکری آپریشنز کے حصے کے طور پر حملوں کے لیے تیار ہیں جب غیر ملکی افواج ان کو موثر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اس بارے میں کم ہی ثبوت ہے جو ظاہر کرتا ہو کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہوں جو امریکہ کے ساتھ اس کے معاہدے میں مطلوب ہے۔

اس کے برعکس، خفیہ معلومات یہ ظاہر کرتی ہی کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات ذاتی مراسم، آپس میں شادیوں اور مشترکہ مزاحمت کے سبب مزید گہرے ہو گئے ہیں اور اب یہ تعلقات دوسری نسل تک منتقل ہو چکے ہیں۔

”القاعدہ کے اراکین کو طالبان نے دور دراز کے علاقوں میں بھجوا دیا ہے تاکہ ان کو ممکنہ طور پر لوگوں کے سامنے آنے اور نشانہ بنائے جانے سے بچایا جا سکے“

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے پانچ سو کے قریب ممبر جو مرکزی گروپ اور القاعدہ ان انڈین سب کانٹینینٹ (AQIS) سے وابستہ ہیں، وہ پندرہ صوبوں میں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔

طالبان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پشتو زبان میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے یہ رپورٹ دشمن کی ایجنسیوں کی اطلاعات پر مرتب کی گئی ہے۔

ترجمان طالبان کے مطابق اس طرح کی یک طرفہ رپورٹیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہیں اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسلامی امارات کے نمائندے بین الافغان مذاکرات کی میز پر جانے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ہو اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد ہو سکے۔

امریکہ کے عہدیداروں نے بھی جمعرات کو اس رپورٹ کو تسلیم کیا ہے لیکن اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں امن کا واحد اور پائیدار راستہ بین الافغان مذاکرات سے نکلتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا

”افغانستان میں ہمارا حتمی مقصد چار دہائیوں سے جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔ اس طرح کے ماحول میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا امکان کم ہے“

نیڈ پرائس طالبان کو بظاہر متنبہ کرتے ہوئے نظر آئے کہ تشدد سے باز رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا افغانستان کے اندر طاقت سے کسی حکومت کے مسلط ہونے کو قبول نہیں کرے گی۔

امریکہ کے ایک اور اہم عہدیدار زلمے خلیل زاد، جو افغان مصالحتی عمل کے لیے نمائندہ خصوصی ہیں، کہہ چکے ہیں کہ طالبان کی سب سے بڑی خواہش خود کو بین الاقوامی برادری سے تسلیم کروانا ہے۔ ان کے بقول طالبان سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور تشدد کا راستہ اختیار کیا تو ان کو قبولیت اور بین الاقوامی امداد سے محروم ہونا پڑے گا۔

افغانستان کے جنوبی حصے میں طالبان نے سرکاری فورسز کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر ایک اور ضلع پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد حالیہ عرصے میں طالبان کے کنٹرول میں جانے والے اضلاع کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

صوبہ زابل کے ایک سیکیورٹی عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری فورسز کے پسپا ہونے کے بعد طالبان جمعے کی صبح سویرے ضلع شینکی میں داخل ہو گئے۔

طالبان ایک ایسے وقت میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے جب امریکہ اور نیٹو ممالک اس ملک سے اپنی فوجی واپس بلا رہے ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے اپنی فورسز کے مکمل انخلا کے لیے اس سال 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن طے کر رکھی ہے۔

ایک اور واقعہ میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ایک گاڑی الٹ گئی جس سے ایک افغان ٹیلی وژن کی خاتون اینکر اور اس کی والدہ ہلاک اور بہن زخمی ہو گئی۔

جمعرات کی رات ہونے والے اس حملے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

آریانا نیوز چینل نے بتایا ہے کہ مینا خیری اس ٹی وی چینل کے لیے پچھلے تین سال سے کام کر رہی تھیں۔

افغان جرنلسٹ سیفٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کابل میں ایک بم دھماکے میں آریانا نیوز کی اینکر میناخیری، ان کی والدہ اور دیگر افراد کی ہلاکت کی خبر پرگہرے رنج میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس واقعہ کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آریانا نیوز کے سربراہ شریف حسن یار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مینا خیری کی ہلاکت پر انتہائی افسردہ ہیں اور ان کا ادارہ پریس کی آزادی کیلیے اپنی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور افغانستان میں آزاد پریس کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں