کٹھ پتلی آزاد حکومت کا ڈرامہ،پاکستانی ریاست کا جبری قبضہ -جنید کمال

0
132

نام نہاد آزاد حکومت “ریاست جموں کشمیر ” جن دلیلوں اور بیانیہ پر تشکیل دی گئی تھی جس میں بھارتی ریاست اور حکومت کو غاصب اور جارحانہ قرار دے کر کے, اپنے عوام کو گمراہ اور جموں کشمیر کے عوام کو دھوکہ دیا گیا تھا اور ساتھ ہی ایک ناٹک اور مذاق کے طور پر پاکستانی ریاست اور اس کے سہولت کاروں کی جانب سے حق خود ارادیت کی نفی کر کے “حق خود ارادیت ” کا ہی مقدمہ لڑا جا رہا تھا جبکہ اس ناٹک اور مذاق کو سچائی قرار دے کر پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے اور جموں کشمیر کے عوام کی آبادی کے ایک حصے کو دھوکہ دینے کی کامیاب پالیسی چلی آ رہی تھی لیکن اب پاکستان اور اس کے سہولت کار جعلی سیاسی رہنما اپنے ناٹک اور کھیل میں خود پھنس کر اپنے ہر جھوٹ, فریب, دھوکہ دہی اور فراڈ سے خود پردہ اٹھا چکے ہیں اور اس جعلی “آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر” کی نفی کر رہے ہیں,۔

گو کے اقوام متحدہ میں یہ اپنے بولے گئے جھوٹ پر پکڑے جانے کے بعد جموں کشمیر پر اپنے حملے اور ناجائز قبضے کے جرم اور گناہ کا اقرار ہی کر چکے تھے لیکن ساتھ ہی جموں کشمیر کے عوام کی ہمدردی, خیر خواہی اور حق خود ارادیت کے نام پر خود کو جموں کشمیر سے ایک فریق کی حیثیت سے آج تک چمٹے رہے ہیں۔

اب جبکہ ان کا” آزاد حکومت ” کا ڈرامہ ان کے اپنے اقدامات اور عمل سے بے نقاب ہو گیا ہے, اس کے بعد ان کی حیثیت مظفرآباد اور گلگت میں کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے ساتھ جڑی نہیں رہی بلکہ صرف بندوق کے زور پر قائم رہ گئی ہے تو اب ان کا جموں کشمیر سے رشتہ ایک حملہ آور اور قابض سے زیادہ کچھ نہیں رہا اس لئے آنے والے وقتوں میں ان کو اپنا ناجائز قبضہ پہلے ختم کرنا ہو گا کیونکہ ان کی حیثیت اس خطے پر نہ تو قانونی ہے اور نہ ہی اخلاقی, اگر ایسا نہیں ہو گا تو ان سے طاقت ور بندوق ان کی جگہ لے گی اور اس بندوق کے خلاف یہ کوئی اخلاقی, قانونی اور سیاسی مقدمہ لڑ نے کے قابل بھی نہیں رہے گے۔

یہ بات پاکستان کے حکمران طبقے اور اس کے سہولت کاروں کو جو مظفرآباد گلگت میں بیٹھے ہیں جان لینی چائیے کے بندوق کی طاقت سے
کسی خطے کے عوام کو اپنا غلام اور محکوم ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا جا سکتا۔ آج پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام میں شعور بیدار ہونا شروع ہوا ہے کہ قابض پاکستان اپنی مقاصد کے لیے کشمیر پر قابض ہے اور ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت بنائی گئی ہے،جسکے وزیر اعظم کی حیثیت اسلام آباد میں ملٹری کے چپراسی سے بھی بُری ہے جسکے ہاتھ میں کچھ نہیں،تو کیسی آزادی کونسا آزاد کشمیر۔

اے میرے ہم وطن کشمیریو،اٹھو تم سب جو, غلام نہیں ہو گے.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں